
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنھما نے اپنی حیات طیبہ میں جن جنگوں میں حصہ لیا ان کے بارے میں تفصیل ارشاد فرمائیے یا آپ کی جنگی مہمات کے بارے میں اردو زبان کی کتب کے نام بتا دیجیے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کےچند جنگوں میں شریک ہونے کا تذکرہ بعض کُتبِ تاریخ میں ملتا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے :
سنہ26ھ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جناب عبد اللہ بن ابی سرح کو مصر کا حاکم مقرر فرمایا، اور افریقہ فتح کرنے پر مامورفرمایا،جناب عبد اللہ بن ابی سر ح نے دورانِ جنگ فوجی َکَمَک طلب کی، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورے سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بہت سی فوجیں افریقہ بھیجنے کے لیے جمع فرمائیں ، جن میں نوجوانان صحابہ رضی اللہ عنہم کی بھی ایک جماعت شامل تھی، مؤرخ علامہ ابن خلدون (المتوفى : 808 ھ) نے ان نوجوان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت میں بعض اسماء كو خاص طور پر صراحت سے ذکر فرمایا ہے ، جن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نامِ نامی بھی شامل ہے ، بعد ازاں یہ جماعت جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، طرابلس وغیرہ کی طرف روانہ ہوگئی اسے فتح کرنے کے لیے ۔
’’تاریخ ابن خلدون‘‘ میں ہے :
" ثم إنّ عبد الله بن أبي سرح كان أمره عثمان بغزو افريقية سنة خمس وعشرين، وقال له: إن فتح الله عليك فلك خمس الخمس من الغنائم. وأمر عقبة بن نافع بن عبد القيس على جند وعبد الله بن نافع بن الحرث على آخر وسرحهما، فخرجوا إلى افريقية في عشرة آلاف وصالحهم أهلها على مال يؤدّونه ولم يقدروا على التوغل فيها لكثرة أهلها. ثم إن عبد الله بن أبي سرح استأذن عثمان في ذلك واستمدّه، فاستشار عثمان الصحابة فأشاروا به، فجهز العساكر من المدينة وفيهم جماعة من الصحابة منهم ابن عباس وابن عمرو بن العاص وابن جعفر والحسن والحسين وابن الزبير وساروا مع عبد الله بن أبي سرح سنة ست وعشرين، ولقيهم عقبة بن نافع فيمن معه من المسلمين ببرقة، ثم ساروا إلى طرابلس فنهبوا الروم عندها، ثم ساروا إلى افريقية وبثّوا السرايا في كل ناحية. "
(تاریخ ابن خلدون، ولاية عبد الله بن أبي سرح على مصر وفتح افريقية، (2/ 573 و574)، ط/ دار الفكر، بيروت)
سن30 ھ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم مقرر فرمایاتھا، اسی سال سعیدبن عاص رضی اللہ عنہ نے ’’طبرستان ‘‘ پر حملہ کیا، اس جنگ میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صحابہ کرام کی ایک عظیم الشان جماعت شامل تھی، اس جماعت میں حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما ، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ، اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ان نوجوان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر مجاہدیں اسلام کے ہمراہ مختلف شہروں سے گزرا، اور وہاں کے باشندوں نے بہت سے اموال جزیہ کے طور پر دے کر صلح کی، یہا ں تک کہ یہ عظیم الشان لشکر شہرِ ’’جرجان‘‘ پہنچا، وہاں سخت خونریز جنگ پیش آئی ،اور یہ حضرات دوران ِ جنگ اس پر مجبور ہوئے کہ فرض نماز کو ’’صلاۃ الخوف‘‘ کے طر یقے پر ادا کریں، ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مجمع میں جلیل القدر صحابی حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ موجود تھے، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ’’صلاۃ الخوف‘‘ ادا فرمائی تھی، لہذا ان سے ’’صلاۃ الخوف‘‘ کی کیفیت معلوم کی گئی ، اور ان کے ارشاد کے مطابق فرض نمازوں کو ’’صلاۃ الخوف‘‘کے طریقے پر ادا کیا گیا، اس کے بعد اہل قلعہ حاضر ہوئے اور امن طلب کیا ، اور صلح کر لی۔
’’تاریخ ابن الاثیر‘‘ میں ہے:
" فإن سعيدا غزاها (طبرستان) من الكوفة سنة ثلاثين ومعه الحسن والحسين وابن عباس وابن عمر بن الخطاب وعبد الله بن عمرو بن العاص وحذيفة بن اليمان وابن الزبير وناس من أصحاب النبي وخرج ابن عامر من البصرة يريد خراسان فسبق سعيدا ونزل نيسابور ونزل سعيد قومس وهي صلح صالحهم حذيفة بعد نهاوند فأتي جرجان فصالحوه علي مائتي ألف ثم أتي طميسة وهي كلها من طبرستان متاخمة جرجان وهي مدينة علي ساحل البحر فقاتله أهلها فصلي صلاة الخوف أعلمه حذيفة كيفيتها وهم يقتتلون وضرب سعيد يومئذ رجلا بالسيف علي حبل عاتقه فخرج السيف من تحت مرفقه وحاصرهم فسألوا الأمان فأعطاهم. "
(الكامل في التاريخ، ذكر غزو سعيد بن العاص طبرستان، (3/ 6 و7)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)
’’البدایۃ والنہایۃ ‘‘ میں ہے :
" سنة ثلاثين من الهجرة النبوية: فيها افتتح سعيد بن العاص طبرستان في قول الواقدي وأبي معشر والمدائني، وقال: هو أول من غزاها. وزعم سيف أنهم كانوا صالحوا سويد بن مقرن قبل ذلك على أن لا يغزوها، على مال بذله له إصبهبذها فالله أعلم. فذكر المدائني أن سعيد بن العاص ركب في جيش فيه الحسن والحسين، والعبادلة الأربعة، وحذيفة بن اليمان، في خلق من الصحابة فسار بهم فمر على بلدان شتى يصالحونه على أموال جزيلة، حتى انتهى إلى بلد معاملة جرجان، فقاتلوه حتى احتاجوا إلى صلاة الخوف، فسأل حذيفة: كيف صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فأخبره فصلى كما أخبره، ثم سأله أهل ذلك الحصن الأمان، فأعطاهم على أن لا يقتل منهم رجلا واحدا ففتحوا الحصن فقتلهم إلا رجلا واحدا. "
(البداية والنهاية، (7/ 154)، ط/ دار الفكر، بيروت)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ رہے ، لہذ سن 36ھ میں جنگِ جمل میں بھی حضرت حسين رضي الله عنه اپنے والد کے ساتھ شریکِ جنگ رہے، اور اس کے بعد جنگ صفین اور اس کے بعد خوارج سے قتال میں بھی اپنے والد کے ساتھ شریکِ جنگ رہے ۔
’’تاریخ خلیفۃ بن خیاط‘‘ میں ہے :
" وَيُقَال عَلَى الميمنة الْحسن وعَلى المسيرة الْحُسَيْن بْن عَلِيّ. "
(تاريخ خليفة بن خياط، سنة ست وثلاثين، تَفْصِيل خبر معركة الْجمل وفيهَا وقْعَة الْجمل، (ص: 184)، ط/ دار القلم، بيروت)
’’الإصابة في تمييز الصحابة‘‘ میں ہے :
" وكانت إقامة الحسين بالمدينة إلى أن خرج مع أبيه إلى الكوفة فشهد معه الجمل ثم صفين ثم قتال الخوارج وبقي معه إلى أن قتل . "
(الإصابة في تمييز الصحابة، (2/ 78)، ط/ دار الجيل، بيروت)
بعض کتبِ تاریخ میں تصریح ہے کہ آ پ رضی اللہ عنہ ’’قسطنطینیہ‘‘ کے ہونے والے جہاد میں بھی شریک رہے۔
’’تاریخ دمشق ‘‘ میں ہے :
"الحسين بن علي بن أبي طالب ابن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف أبو عبد الله سبط رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وريحانته من الدنيا، حدث عن النبي (صلى الله عليه وسلم)، وعن أبيه، روى عنه ابنه علي بن الحسين وابنته فاطمة وابن أخيه زيد بن الحسن وشعيب بن خالد وطلحة بن عبيد الله العقيلي ويوسف الصباغ وعبيد بن حنين وهمام بن غالب الفرزدق وأبو هشام، ووفد على معاوية، وتوجه غازيا إلى القسطنطينية في الجيش الذي كان أميره يزيد بن معاوية. "
(تاريخ دمشق، (14/ 111) برقم (1566)، ط/ دار الفكر، بيروت)
’’تاریخ الاسلام للذہبی‘‘ میں ہے :
" وَقَالَ ابْنُ عَسَاكِر: وَفَدَ الْحُسَيْنُ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَغَزَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ مَعَ يَزِيد. "
(تاريخ الإسلام، (2/ 627)، ط/ دار الغرب الإسلامي)
’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ میں ہے :
" ولما توفي الحسن كان الحسين يفد إلى معاوية في كل عام فيعطيه ويكرمه، وقد كان في الجيش الذين غزوا القسطنطينية مع ابن معاوية يزيد، في سنة إحدى وخمسين. "
(البداية والنهاية، (8/ 151)، ط/ دار الفكر، بيروت)
مذكوره تمام عبارتوں کی صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جوانی کے آغاز سے ہی مجاہد فی سبیل اللہ تھے، اور مختلف جنگوں میں اہم فوجی دستوں کے رکن کی حیثیت سے شرکت فرماتے رہے ہیں، تاہم حضرت رضی اللہ عنہ کی جنگی مُہمّات کےحوالہ سے کوئی خاص کتاب جو اسی موضوع کو بیان کرتی ہو ہمارے علم میں نہیں ۔
فقط واللہ تعالي اعلم
فتویٰ نمبر : 144601102521
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن