بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ازار نیچے ہوجانے سے متعلق روایت کا صحیح معنی ومفہوم/شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا حکم


سوال

ٹخنوں سے نیچے پائنچوں سے متعلق سوال ہے کہ بعض لوگ اس کا حکم صرف نماز کے لیے (خاص) سمجھتے ہیں، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر تکبر کی نیت نہ ہو تو پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھ سکتے ہیں ، اس پر بطورِ دلیل حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے پانئچے اوپر رکھنے کا ذکرفرمایا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے تو پائنچے اکثر  ٹخنوں سےنیچے ہوتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر گناہ نہیں ۔

1۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ 

2۔شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا حکم کیا ہے؟ 

جواب

1- حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ازار نیچے ہوجانے سے متعلق روایت: 

 حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ازار  نیچے ہوجانےسے متعلق روایت صحیح ہے ۔

’’صحیح بخاری ‘‘ میں ہے : 

 " عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ القِيَامَةِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلاَءَ. "

يعني حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی فخرو تکبر کے طور پر اپنا کپڑا زیادہ نیچا کرے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر بھی نہیں کرے گا، حضرت ابو بکر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا تہبند اگر میں اس کا خیال نہ رکھوں، تو نیچے لٹک جاتا ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو، جو فخروغرور کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔

(صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب من جرّ إزاره من غير خيلاء، (7/ 141) برقم (5784)، ط/ دار طوق النجاة)

روايت كا صحيح مطلب :

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعے سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا صرف اس وقت منع ہے جب تکبر کی نیت ہو، اور اگر تکبر نہ ہو تو جائز ہے،اصل بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمل ارادی نہیں تھا، وہ دبلے پتلے جسم کے باعث تہبند کو بار بار سنبھالتے رہتے تھے، اور اگر کبھی بے دھیانی میں وہ نیچے سرک جاتا تو فوراً درست کر لیتے تھے،اس لیے اس واقعے سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ غیر ارادی طور پر لٹکنے والا کپڑا جائز ہے، بلکہ یہ صرف ان کی معذوری اور بے ارادہ کیفیت کی وضاحت ہے، نہ کہ عام حکم کی تخصیص۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے"فتح الباري"میں مذکورہ حدیث کی تشریح میں  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ازار کے نیچےآنے کا سبب اُن کے جسم کا لاغر ہونا بیان کیا ہے ۔

’’فتح الباری‘‘میں ہے:

" وکان سببُ استرخائِه نَحافةَ جسمِ أبي بكر. "

(فتح الباري، كتاب اللباس ، باب من جر إزاره من غير خيلاء، (10/ 255)، ط/ دار المعرفة، بيروت)

2- شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا حکم :

 شلوار کاپائنچہ ٹخنوں سے نیچے رکھنا  بقصدِ تکبر حرام ہے، اور بلاقصدِ تکبر مکروہ تحریمی ہے، اگر غیر ارادی طور پر کبھی شلوار کا پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹک جائے تو  معاف ہے، لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا یا شلوار ہی ایسی بنانا کہ پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹکائے رکھنا جائز نہیں ، یہ متکبرین کی علامت ہے۔ 

چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

"حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنِ الإِزَارِ، فَقَال: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَلَا حَرَجَ - أَوْ لَا جُنَاحَ - فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فَهُوَ فِي النَّارِ، مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ".

یعنی عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ازار کی بابت سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک باخبر سے دریافت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مومن کی تہہ بند نصف پنڈلی تک رکھنا بہتر ہے، اور نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو کوئی حرج نہیں، یا فرمایا کہ کوئی گناہ نہیں، اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو تو وہ آگ میں ہے، (یعنی اس کا نتیجہ جہنم ہے)، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس آدمی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا، جو ازراہِ فخر و تکبر اپنی ازار گھسیٹ کے چلے گا۔

(سنن أبي داؤد، كتاب اللباس، باب في قدر موضع الإزار، (4 /59) برقم (4093) ط/ المكتبة العصرية، بيروت)

نيز حديث شريف ميں ہے :

"حدثنا آدم: حدثنا شعبة: حدثنا سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار."

(صحيح البخاري كتاب اللباس، باب ما أسفل من الكعبين فهو في النار، (5 /2182) برقم (5450) ط/ دار ابن كثير دمشق)

’’فیض الباری‘‘ میں ہے:

" قوله: (من جر ثوبه خيلاء) وجر الثوب ممنوع عندنا مطلقا، فهو إذن من أحكام اللباس، وقصر الشافعية النهي على قيد المخيلة ، فإن كان الجر بدون التكبر، فهو جائز، وإذن لا يكون الحديث من أحكام اللباس والأقرب ما ذهب إليه الحنفية، لأن الخيلاء ممنوع في نفسه، ولا اختصاص له بالجر، وأما قوله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر: «إنك لست ممن يجر إزاره خيلاء»، ففيه تعليل بأمر مناسب، وإن لم يكن مناطا فعلة الإباحة فيه عدم الاستمساك إلا بالتعهد، إلا أنه زاد عليه بأمر يفيد الإباحة، ويؤكدها. ولعل المصنف أيضا يوافقنا، فإنه أخرج الحديث في اللباس، وسؤال أبي بكر أيضا يؤيد ما قلنا، فإنه يدل على أنه حمل النهي على العموم، ولو كان عنده قيد الخيلاء مناطا للنهي، لما كان لسؤاله معنى. والتعليل بأمر مناسب طريق معهود. ولنا أن نقول أيضا: إن جر الإزار خيلاء ممنوع لمن يتمسك إزاره، فليس المحط الخيلاء فقط. "

(فیض الباری، كتاب اللباس، باب من جر ثوبه من الخيلاء، (72/6)، ط/ دار الكتب العلمية)

’’فتاوی ہندیہ‘‘ میں ہے:

" وإسبال الإزار والقميص بدعة ينبغي أن يكون الإزار فوق الكعبين إلى نصف الساق. "

(كتاب الكراهية ،الباب التاسع في اللبس ما يكره من ذلك وما لا يكره،(333/5)، ط/ رشيدية)

فقط واللہ تعالي اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101553

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں