
کیا درج ذیل قول، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے ؟رہنمائی فرمائیں :
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:’’ جب تم اپنے کسی مسلمان بھائی کو دیکھو کہ وہ راہِ راست سے ہٹ گیا ہے تو اس کی اصلاح کرو اور سیدھے راستے کی طرف اس کی رہنمائی کرو اور اللہ سے دعا کرو کہ اللہ اس کی توبہ قبول کر لے اور اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو‘‘۔
سوال میں آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جس قول کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ قول "شعب الإيمان"، "حلية الأولياء وطبقات الأصفياء"، "تفسير ابن كثير" اور "مسند الفاروق"میں ایک واقعہ کے ذیل میں مذکور ہے۔"حلية الأولياء وطبقات الأصفياء" میں پورے واقعہ کے الفاظ درج ذیل ہیں:
"حدّثنا عبدُ الله بنُ محمّد بنِ جعفر، ثنا محمّدُ بن سهل، ثنا عبدُ الله بن عمر، ثنا كثيرُ بن هشامٍ، ثنا جعفر بن بُرقان، ثنا يزيد بنُ الأصم: أنّ رجلاً كان ذا بأسٍ، وكان يُوفد على عمر ِلبأسِه، وكان مِن أهل الشام، وأنّ عمر فَقده فَسأل عنه، فَقيل له: تتابعَ في هذا الشّراب، فَدعا كاتبَه، فَقال: اكتُب: مِن عمر بن الخطّاب إلى فُلان، سلامٌ عليك، فإنّي أحمدُ إليك اللهَ الذي لا إله إلا هُو {غَافرِ الذنب، وقَابلِ التوب، شَديدِ العقاب، ذِي الطَول، لا إلهَ إلّا هو إليه المصيرُ} [غافر: 3]، ثُمّ دعا وأمّن مَن عنده، ودعوا له أنْ يُقبلَ الله بقلبه، وأنْ يتُوبَ عليه.فلما أتتِ الصّحيفةُ الرجلَ جَعل يقرأُها ويقولُ: {غَافرِ الذنب} [غافر: 3]، قَد وعدَني اللهُ أنْ يغفرَ لي، و {قَابلِ التوب، شَديدِ العقاب} [غافر: 3] قد حذّرَني اللهُ عِقابَه، {ذِي الطَول} [غافر: 3] والطَّول: الخيرُ الكثير، {لا إله إلا هو إليه المصير} [غافر: 3]، فَلمْ يزلْ يردّدُها على نفَسه، ثُمّ بَكى، ثُمّ نزع فَأحسنَ النزعَ. فَلمّا بَلغَ عمرُ أمرَه قال: هَكذا فاصنعُوا، إذا رأيتُم أخا لكُم زلّ زلّةً فسدِّدُوه، ووفِّقُوه، وادعُوا اللهَ أنْ يتُوبَ عليه، ولا تَكونُوا عَوْناً لِلشَّيطان عليه".
(حلية الأولياء، فمن الطبقة من التابعين، ترجمة: يزيد بن الأصم، 4/97، ط: السعادة-بحوار محافظة مصر)
ترجمہ:
’’حضرت یزید بن الاصم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:ایک شخص مضبوط وبہادر تھا، اسی مضبوطی وبہادری کی وجہ سے اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں قاصد بناکر بھیجاجاتاتھا،وہ اہلِ شام میں سے تھا،(کچھ دن) وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نظرنہیں آیاتو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں پوچھا،عرض کیاگیا:وہ تو شراب کے نشے میں لگ گیاہے،(یہ سن کر) آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلایااور اس سے کہا:لکھو:"مِن عمر بن الخطّاب إلى فُلان، سلامٌ عليك، فإنّي أحمدُ إليك اللهَ الذي لا إله إلا هُو {غَافرِ الذنب، وقَابلِ التوب، شَديدِ العقاب، ذِي الطَول، لا إلهَ إلّا هو إليه المصيرُ} [غافر: 3]"(عمر بن الخطاب کی طرف سے فلاں کے نام۔آپ پر سلامتی ہو۔میں آپ کے سامنے اس اللہ کے اوصاف بیان کررہاہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں:۱۔وہ گناہوں کو بخشنے والا ہے۔۲۔توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔۳۔سخت سزادینے والا ہے۔۴۔قوت والا ہے۔۵۔اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔۶۔اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے)۔پھر آپ رضی اللہ عنہ نے(اس شخص کے لیے) دعاکی اور حاضرین نے اس پر آمین کہی،حاضرین نے دعاکی کہ وہ دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہوجائےاور اس سے توبہ کرلے۔جبپیغام کایہ پرچہ اس شخص کے پاس پہنچاتو وہ اسے پڑھنے لگا اور کہنے لگا:{غَافرِ الذنب} [غافر: 3]میں اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہےکہ وہ میرے بخشش کرےگا،اور{قَابلِ التوب، شَديدِ العقاب} [غافر: 3]میں اللہ نے مجھے اپنی سزاسے ڈرایا ہے،{ذِي الطَول} [غافر: 3]،الطَّول سے مراد تو خیرِ کثیر ہے(الطَّول کا ایکمعنی یہ بھی بیان کیاگیا ہے)،{لا إله إلا هو إليه المصير} [غافر: 3]باربار اسے دل ہی دل میں دہرانے لگا،پھر رونےلگا، آخر میں اس پر خوب غشی طاری ہوگئی ۔جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی ساری صورتِ حال کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا:(اس طرح کے مواقع پر) تم لوگ اسی طرح کیاکرو،جب تم اپنے کسی (مسلمان) بھائی کو دیکھو کہ وہ راہِ راست سے ہٹ گیا ہے تو اس کی اصلاح کرو اور سیدھے راستے کی طرف اس کی رہنمائی کرو اور اللہ سے دعا کرو کہ اللہ اس کی توبہ قبول کر لے اور اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو‘‘۔
حافظ ابن ِ کثیر رحمہ اللہ "مسند الفاروق"میں مذکورہ واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"اسنادٌ جيّدٌ، وفيه انقطاعٌ".
(مسند الفاروق، كتاب الحدود، 2/517، ط: دار الوفاء-المنصورة)
ترجمہ:
’’اس واقعہ کی سند تَو جید(يعني حسن )ہے،لیکن اس میں انقطاع ہے(یعنی واقعہ کے راوی یزیدبن الاصم نے اسے براہِ راست حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا،بلکہ درمیان میں کوئی اور راوی ہے جو حذف ہوا ہے)‘‘۔
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144501101991
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن