بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے قول:’’میں نے اپنے والد کو خواب میں دیکھا گویا وہ ایک باغ میں ہیں ۔۔۔الخ‘‘ کی تخریج


سوال

کیا درج ذیل قول  حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ  کا  ہے ؟رہنمائی فرمائیں:

’’میں نے خواب میں   اپنے والد کو    دیکھا گویا وہ ایک باغ میں ہیں، میں نے عرض کیا : آپ نے اپنا کونسا عمل سب سے افضل پایا؟ فرمایا : استغفار‘‘۔

جواب

سوال  میں آپ نے  حضرت عمر  بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا جو قول ذکر کرکے اس کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ قول"شرح صحيح البخاري لابن بطال"میں  درج ذیل الفاظ میں مذکورہے:

"وقال عمر بن عبد العزيز: رأيتُ أبى فى النوم كأنّه فى بُستانٍ، فقلتُ له: أىُّ عملِك وجدتَ أفضل؟ قال: الاستغفار".

(شرح صحيح البخاري لابن بطال، كتاب التعبير، باب: توبوا إلى الله توبة نصوحا، 10/78، ط: مكتبة الرشد-الرياض)

ترجمہ:

’’(حضرت ) عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے  والد کو خواب میں دیکھا گویا کہ وہ  ایک باغ میں ہیں، میں نے عرض کیا: آپ نے اپنےکو نسےعمل  کو سب سے افضل پایا؟ انہوں نے فرمایا:(میں نے)استغفار  کو(سب سے افضل پایا)‘‘۔

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144504100161

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں