
حضرت خضر علیہ السلام اس وقت کہاں موجود ہیں؟
حضرات محدثین کی ایک جماعت حضرت خضر علیہ السلام کی اس وقت دنیوی حیات کا انکار کرتی ہے، جب کہ جمہور اہل علم اور اہل تصوف فرماتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں اور بعض اوقات اللہ جل شانہ کے حکم سے اس کے بندوں کی مدد بھی کرتے ہیں ۔
باقی اس اختلاف سے قطع نظر اصل بات یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کی حیات اور موت سے ہمارا کوئی اعتقادی یا علمی مسئلہ متعلق نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایک جانب کا یقین رکھنا ہمارے لیے ضروری ہے، اس لیے کہ قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کوئی صراحت نہیں ملتی اور یہی وجہ ہے کہ علماءِ امت میں اس بارے میں اختلاف ہے،شریعتِ مطہرہ نے ہمیں آخرت کی تیاری اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودگی کے حصول کی جستجو کا پابند کیا ہے، کسی ایسے کام کی جستجو کی ترغیب نہیں دی ہے کہ جس سے دنیا و آخرت میں سے کسی کا کوئی فائدہ نہ ہو۔،لہذا ایسے باتوں میں پڑنے کے بجائے اعمال صالحہ کے ساتھ اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے ۔
شرح النووی میں ہے:
"جمهور العلماء على أنه حي موجود بين أظهرنا وذلك متفق عليه عند الصوفية وأهل الصلاح والمعرفة وحكاياتهم في رؤيته والاجتماع به والأخذ عنه وسؤاله وجوابه ووجوده في المواضع الشريفة ومواطن الخير أكثر من أن يحصر وأشهر من ان يستر وقال الشيخ ابو عمر بن الصلاح هو حي عند جماهير العلماء والصالحين والعامة معهم في ذلك قال وإنما شذ بإنكاره بعض المحدثين."
(كتاب الفضائل، الباب من فضائل الخضر صلى الله عليه وسلم، ج:15، ص:135، ط:دار إحياء التراث العربي )
فتح الباری میں ہے:
" وقال بن الصلاح هو حي عند جمهور العلماء والعامة معهم في ذلك وإنما شذ بإنكاره بعض المحدثين وتبعه النووي وزاد أن ذلك متفق عليه بين الصوفية وأهل الصلاح وحكاياتهم في رؤيته والاجتماع به أكثر من أن تحصر انتهى ."
(كتاب بدء الخلق، باب حديث الخضر مع موسى عليهما السلام، ج:6، ص:434، ط:دار المعرفة)
تفسیر معارف القرآن (کاندھلوی) میں ہے:
”خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ خضر علیہ السلام ہمارے درمیان زندہ موجود ہیں اور صوفیائے کرام اور اولیائے عظام بلااختلاف سب اسی پر متفق ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر یہ کہ خِضر علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ امور تشریعیہ سے نہیں بلکہ امور تکوینیہ اور اسرار کونیہ کی جنس سے ہے حضرت استاد مولانا سید انور شاہ قدس اللہ سرہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کسی مسئلہ میں علماء شریعت اور اولیائے طریقت کا اختلاف پاؤ تو یہ دیکھو کہ وہ مسئلہ امور تشریعیہ یعنی احکام شریعت سے متعلق ہے یا امور تکوینیہ یا اسرار کونیہ کے باب سے ہے پس اگر وہ مسئلہ امور تشریعیہ یعنی حلال وحرام اور یجوز اور لا یجوز سے متعلق ہو تو اس وقت علماء شریعت کے قول اور فتویٰ کو ترجیح دینا کیونکہ علماء شریعت کا گروہ احکام شریعت سے خوب آگاہ ہے اور اگر وہ مسئلہ امور تکونیہ اور اسرار کونیہ سے متعلق ہو اور افعال مکلفین سے اس کا تعلق نہ ہو تو ا س جگہ اولیائے طریقت اور اہل معرفت وارباب بصیرت کے قول کو ترجیح دینا کیونکہ یہ گروہ اہل کشف اور اہل الہام کا گروہ ہے اور بلا شبہ صادقین اور صالحین کا گروہ ہے یہ گروہ جب اپنا کوئی مشاہدہ اور مکاشفہ بیان کرے تو عقلاً ونقلاً اس کو قبول کرنا ضروری ہے۔“
(سورۃ الکہف، ج:5، ص:9، ط:مکتبہ المعارف )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102225
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن