بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1448ھ 13 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے وسیلے سے دعا کرنے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص یوں دعا کرے کہ: "اے اللہ! حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے صدقے میرے والد کی مغفرت فرما" تو اس دعا کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس طرح دعا کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے وقت کسی نیک عمل یا بزرگ ہستی کو وسیلہ بنانا اصولا جائز ہے، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ ہی کو حقیقی مؤثر اور حاجت پوری کرنے والا سمجھا جائے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص یہ دعا کرے کہ ”یا اللہ! حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے صدقے میرے والد کی مغفرت فرما“ تو یہ دعا شرعا جائز ہے، بشرطیکہ اس کی مراد یہ ہو کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے اپنے والد کی مغفرت مانگی جارہی ہے، اور مغفرت کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وقال السبكي: يحسن التوسل بالنبي إلى ربه، ولم ينكره أحد من السلف ولا الخلف إلا ابن تيمية؛ فابتدع ما لم يقله عالم قبله."

(كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:397، ط: سعيد)

حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:

"ومن آداب الدعاء تقديم الثناء على الله والتوسل بنبي الله، ليستجاب الدعاء."

(أبواب الصلاة، الأمور التي لا بد منها في الصلاة، ج:2، ص:10، ط: دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں