بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 محرم 1448ھ 06 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ازار سے متعلق روایت کی حقیقت اور ان کے جواب کی توجیہ


سوال

سيدنا عبد الله بن مسعود  رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا کپڑا ٹخنوں سے نیچے تھا آپ نے ان سے کہا کہ کپڑا اوپر کرلو  اس نے جوابا کہا آپ کا کپڑا بھی تو نیچے ہے آپ بھی اوپر کریں  عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا معاملہ آپ جیسا نہیں ہے میری پنڈلیاں بہت دبلی ہیں اور مچھے نماز میں امامت کرانی ہوتی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے اس شخص کو بلا کرسرزنش کی اور فرمایا تو ابن مسعودرضی اللہ عنہ  کو جواب دیتا ہے ؟!

(معجم الصحابۃ للبغوی ۱۴۱۷)

پوچھنا یہ ہے کہ مجھے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا جواب سمجھ میں نہیں آرہا ہے، کیا مذکورہ حدیث ثابت ہے؟

جواب

 مرد کے لیے ازار یا پائنچہ نصف پنڈلی سے لے کر ٹخنوں کے اوپر تک رکھنا جائز ہے، البتہ نصف پنڈلی تک رکھنا زیادہ افضل اور بہتر ہے۔ تاہم ٹخنوں کو ڈھانپنا جائز نہیں۔

رہی حضرت عبد الله بن مسعود رضي الله عنه  کی روایت جو " معجم الصحابۃ"  کے حوالہ سے سوال میں  مذکورہے تو و اس سے ٹخنوں سے نیچے ازار ثابت نہیں ہوتا، بلکہ انہوں نے اپنا ازار صرف مستحب مقدار یعنی نصف پنڈلی سے کچھ نیچے رکھا تھا۔ چنانچہ حافظ ابن حجر العسقلاني رحمہ اللہ  نے فرمایا ہے اس روایت کامطلب یہ ہے کہ عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ  اپنا ازار صرف مستحب مقدار سے کچھ نیچے رکھتے تھے۔

معجم الصحابة میں ہے:

عن أبي وائل أن ابن مسعود رأى رجلا قد أسبل فقال: ارفع إزارك فقال: وأنت يا ابن  مسعود فارفع إزارك فقال عبد الله: إني لست مثلك: إن بساقي خموشة وأنا أؤم الناس فبلغ ذلك عمر فجعل يضرب الرجل ويقول: أترد على ابن مسعود؟.

(معجم الصحابة، (3/465، 466) برقم (1417 )، ط:  مكتبة دار البيان)

سنن أبي داؤدمیں ہے:

عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، قال:سألت أبا سعيد الخدري عن الإزار، قال: على الخبير سقطت،قال رسول الله  صلى الله عليه وسلم : إزرة المسلم إلى نصف الساق ولا حرج -أو لا جناح- فيما بينه وبين الكعبين، وما كان أسفل من الكعبين فهو في النار، من جر إزاره بطرا لم ينظر الله إليه.

(سنن أبي داود، أول كتاب اللباس، باب في قدْرِموضِع الإزارِ، (6/191)، رقم (4093 )، ط: دار الرسالة العالمية).

ترجمہ:  عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ازار کی بابت سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک باخبر سے دریافت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مومن کی تہہ بند نصف پنڈلی تک رکھنا بہتر ہے، اور نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو کوئی حرج نہیں، یا فرمایا کہ کوئی گناہ نہیں، اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو تو وہ آگ میں ہے، (یعنی اس کا نتیجہ جہنم ہے)، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس آدمی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائیں گے جو ازراہِ فخر و تکبر اپنی ازار گھسیٹ کے چلے گا۔

فتح الباری میں ہے:

وأما ما أخرجه بن أبي شيبة عن بن مسعود بسند جيد أنه كان يسبل إزاره فقيل له في ذلك فقال إني حمش الساقين فهو محمول على أنه أسبله زيادة على المستحب وهو أن يكون إلى نصف الساق ولا يظن به أنه جاوز به الكعبين والتعليل يرشد إليه .

(فتح الباري، باب من جر ثوبه من الخيلاء، (10/264)، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101450

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں