بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت حسین کی شہادت پر غم منانے کے لیے ماتم کرنا بدعت ہے


سوال

میں قطر میں کام کرتا ہوں میرے ساتھ ایک اہل تشیع لڑکا موجود ہے جو کہتا ہے کے جس طرح حضرت اویس قرنی نے اپنے دانت نکالے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے غم میں اسی طرح ہم امام حسین کی شہادت کے غم میں ماتم کرتے ہیں تو یہ بدعت کیسے ہوئی ؟

جواب

کتب تاریخ و تراجم میں  اویس قرنی رحمہ اللہ  سے منسوب مذکورہ واقعہ ثابت نہیں ہے،اور اسی طرح حسین رضی اللہ عنہ کے شہادت کے غم میں ماتم کرنا  شرعاًً جائز نہیں ہے،   اور شریعت  میں کسی کی موت یا شہادت پر ماتم کرنا ،یا جلوس نکالنا جائز نہیں ہے، جب اللہ کے نبی نے اسی طرح ماتم کرنے گریہ زاری، سینہ کو بی  سے منع فرمایا ہے تو اس کے خلاف  قیاس اور عقل رانی کا کیا  جواز بنتاہے؟

حضرت اویس کے واقعہ کی تفصیل کے لیے درج زیل لنک ملاحظہ فرمائیں۔

اذانِ بلال رضی اللہ عنہ اور اویسِ قرنی رحمہ اللہ کے حوالے مشہور واقعات کی تحقیق

بخاری شریف میں ہے:

"عن عبد الله رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ليس منا من ضرب الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية."

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا:“وہ ہم میں سے نہیں جو مصیبت کے وقت رخسار پیٹے، گریبان  پھاڑے، اور جاہلیت کے نعرے لگائے۔”

( كتاب الجنائز، باب: ليس منا من ضرب الخدود ، رقم الحدیث: 1297، ط: دار طوق النجاة)

صحیح مسلم میں ہے:

حدثه أن أبا مالك الأشعري، حدثه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أربع في أمتي من أمر الجاهلية، لا يتركونهن: الفخر في الأحساب، والطعن في الأنساب، والاستسقاء بالنجوم، والنياحة " وقال: "النائحة إذا لم تتب قبل موتها، تقام يوم القيامة وعليها سربال من قطران، ودرع من جرب."

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا:“میری امت میں جاہلیت کے چار کام ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے:حسب و نسب پر فخر کرنا،لوگوں کے نسب میں طعن کرنا،ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا،اور نوحہ کرنا (یعنی میت پر چیخ و پکار کرنا)۔”اور آپ ﷺ نے فرمایا:“نوحہ کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس پر تارکول (قطران) کا لباس ہوگا اور خارش کی زرہ پہنائی گئی ہوگی۔”

(کتاب الجنائز،  باب التشديد في النياحة، ج: 2، ص: 644، ط: دار إحياء التراث العربي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

 (من ضرب الخدود) جمعه لمقابلة الجمع بالجمع فإنه من مفرد اللفظ مجموع المعنى. (وشق الجيوب) بضم الجيم وبكسر، وفي معناه طرح العمامة، وضرب الرأس على الجدار، وقطع الشعر. (ودعا بدعوى الجاهلية) أي: بدعائهم يعني: قال عند البكاء ما لا يجوز شرعا، مما يقول به الجاهلية، كالدعاء بالويل والثبور، وكواكهفاه، واجبلاه. (متفق عليه) قال ميرك: ورواه الترمذي والنسائي.

(کتاب الجنائز،باب البكاء على الميت، ج: 4، ص: 181، ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وأما النوح العالي فلا يجوز والبكاء مع رقة القلب لا بأس به ويكره للرجال تسويد الثياب وتمزيقها للتعزية ولا بأس بالتسويد للنساء وأما تسويد الخدود والأيدي وشق الجيوب وخدش الوجوه ونشر الشعور ونثر التراب على الرءوس والضرب على الفخذ والصدر وإيقاد النار على القبور فمن رسوم الجاهلية والباطل والغرور، كذا في المضمرات.

(کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، مسائل في التعزية، ج: 1، ص: 167، ط: دار الفكر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101558

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں