بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اولاد کے وسیلہ سے دعا مانگنا


سوال

 میرے والد محترم کا ایک سوال تھا : میں ایک درود کی مجلس میں ہر جمعرات کو شرکت کرتا ہوں،  مجلس کے اختتام پر ایک صاحب دعا کرواتے ہیں،  جس میں وہ یہ کہتے ہیں: ” اللہ پاک ہماری دعاؤں کو بی بی فاطمہ کی اولاد کے طفیل میں قبول کرے“- سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعا کا طریقہ صحیح یا مناسب ہے؟ ہم نے تو آج تک تو حضور ﷺ کے طفیل میں سنا تھا۔

جواب

 واضح رہے کہ  نیک اعمال   یا  اللہ کے نیک بندوں کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے،   اور جس طرح انبیاء کرام کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے ، اسی طرح انبیاء کے علاوہ دیگر اللہ کے نیک بندے جیسے صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین  یا دیگر بزرگان دین کے وسیلہ سے دعا مانگنا بھی جائز ہے، روایت میں آتا ہے کہ  حضرت عمر رضی اللہ عنہ قحط سالی کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ  کے چچا   حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو اس وقت حیات تھے) کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے  دعا فرماتے تھے،صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: 

"عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه کان إذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبدالمطلب رضي الله عنه فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إلیك بنبینا صلی الله عليه وسلم فتسقینا، وإنا نتوسل إلیك بعم نبینا فاسقنا! قال: فیسقون."

(کتاب العیدین، أبواب الاستسقاء، باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، 1/ 137، ط: قدیمي)

ترجمہ: ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے، چنانچہ یوں کہتے تھے: اے اللہ ہم آپ سے اپنے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعاکرکے بارش طلب کرتے تھے، اب آپ ﷺ کے چچا کے وسیلے سے آپ سے بارش کی دعا کرتے ہیں، چناں چہ بارش ہوجاتی۔‘‘

لہذا مذکورہ امام صاحب کا اپنی دعا میں یہ الفاظ کہنا : ” اللہ پاک ہماری دعاؤں کو بی بی فاطمہ کی اولاد کے طفیل میں قبول کرے“ جائز ہے، البتہ  دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ کو  واجب یا ضروری سمجھنا یا توسل والی دعا کی قبولیت کا اللہ کے ذمے لازم سمجھنا درست نہیں ہے۔

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’سوال: حقانی صاحب نے اپنے وعظ میں کہا ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی بھی پیغمبر کے وسیلہ سے دعا مانگنا نہیں چاہیے،بلکہ صرف خدا ہی سے مانگے،یہ بات درست نہیں؟

جواب: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر انبیاء کرام اور اولیائے کرام کے وسیلہ سے اس طرح دعا کرنا کہ "یا اللہ: فلاں بزرگ یا فلاں نبی کے طفیل ہماری حاجت پوری فرمادے،شرعاً درست ہے۔

حقانی صاحب نے ہدایہ وغیر ہ کے حوالہ سے یہ مسئلہ بتایا ہے ،وہاں در اصل معتزلہ کا رد مقصود ہے،جس کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے،اُس کا اِس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ،یہاں وہ صورت نہیں جس کو منع کیا گیا ہے،فقط واللہ اعلم۔‘‘

(فتاوی محمودیہ، مایتعلق بالتوسل فی الدعاء،ج: 1، ص: 581، ط: مکتبہ جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144701100291

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں