بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت عثمان کی فضیلت سے متعلق ایک مشہور حدیث اور اس کی اسنادی حیثیت؟


سوال

لوگوں میں ایک  حدیث بہت مشہور ہے  جس کے الفاظ  ہے کہ اے عثمان، اللہ عز وجل آپ کو قمیص پہنائے گا، اگر منافق تجھ سے وہ قمیص چھیننا چاہے تو آپ نے اسے اتارنا نہیں  یہا ں تک کہ مجھ  سے آملو، پھر فرمایا اللہعز وجل  آپ کو لباس خلافت پہنائیں گے، اگر منافق اسے اتارنا چاہے تو آپ نے شہید ہونے تک اتارنا نہیں ، اور یہ بات حضور  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تین مرتبہ فرمائی ۔

براہ کرم رہنمائی فرمائیں  کیا یہ حدیث  صحیح ہے؟ اس کی اسنادی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ کون کون سی احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے؟ نیز اس حدیث کا مکمل اردو ترجمہ بھی بیان فرمائیں۔

 

 

جواب

سوال میں ذکر کردہ روایت مسند احمد، سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، معجم الکبیروالاوسط  للطبرانی اور مستدرک حاکم جیسی عظیم  کتب حدیث میں ام المؤمنین حضرت عائشۃ اور زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہما کے واسطہ متعدد طرق سے منقول ہے، اگرچہ بعض طرق مثلا مسند احمد، ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں فرج بن فضالہ ضعیف  راوی کی وجہ سے  وہ خاص سند ضعیف  ہے ،لیکن باقی صحیح طرق اور قوی متابعات کی وجہ سے حدیث صحیح (لغیرہ )  اور قابلِ بیان ہے۔ البتہ ایک بات پیش نظر رہے کہ سوال میں اس جملہ کو بھی حدیث کا حصہ قرار دیا گیا ہے کہ اللہ آپ کو لباس خلافت پہنائیں گے اگر منافق اسے اتارنا چاہے تو آپ نے شہید ہونے تک اسے نہیں اتارنا، یہ جملہ  نہ مذکورہ کتب میں ملتا ہے، اور  نہ ان کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں باقاعدہ حدیث  کے الفاظ کی حیثیت سے ملتاہے، بلکہ محدثین نے اس جملہ کو حدیث سے ثابت شدہ مطلب کے طور پر کنایۃ  ذکر فرمایا ہے کہ حدیث میں قمیص سے مراد خلافت ہے، نیز حدیث کا ترجمہ درج ذیل ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم سرور دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ اے عثمان! اللہ جل شانہ آپ کو ایسے قمیص (یعنی خلافت عطاکریں گے)پہنائیں گے جسے لوگ(آپ سے نفرت وبغض رکھنے والے)آپ سے ہتھیا لینے کی کوشش کریں گے، اس وقت تک اسے نہیں چھوڑنا جب تک ہمارے پاس نہ آجاو۔

جیساکہ مسند  احمد میں ہے :

حدثنا موسى بن داود، قال: حدثنا فرج بن فضالة، عن محمد بن الوليد  الزبيدي، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة قالت: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: « يا عائشة، لو كان عندنا من يحدثنا ». قالت: قلت: يا رسول الله، ألا أبعث إلى أبي بكر؟ فسكت، ثم قال: «  لو كان عندنا من يحدثنا » فقلت: ألا أبعث إلى عمر؟ فسكت. قالت: ثم دعا وصيفا بين يديه، فساره، فذهب، قالت: فإذا عثمان يستأذن، فأذن له، فدخل، فناجاه النبي صلى الله عليه وسلم طويلا، ثم قال: «  يا عثمان إن الله عز وجلمقمصك قميصا، فإن أرادك المنافقون على أن تخلعه، فلا تخلعه لهم ولا كرامة » يقولها له مرتين أو ثلاثا.

[مسند النساء،ج: 14/ف13، رقم لحديث: 24466، تـ: شعيب الأرناؤط، ط: مؤسسة الرسالة]

سنن ترمذی میں ہے:

عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يا عثمان»، إنه لعلاللهيقمصك قميصا، فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه لهم وفي الحديث قصة طويلة. هذا حديث حسن غريب.

[أبواب المناقب، باب في مناقب عثمان رضي الله عنه، باب: 6/73، رقم الحديث: 3705، تـ: بشار عواد، دار المغرب.]

سنن ابن ماجہ میں ہے:

عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « يا عثمان، إن ولاك الله هذا الأمر يوما فأرادك المنافقون أن تخلع قميصك الذي قمصك الله، فلا تخلعه». يقول ذلك ثلاث مرات. قال النعمان: فقلت لعائشة: ما منعك أن تعلمي الناس بهذا؟ قالت: أنسيته والله.

[أبواب السنة، باب في فضائل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فضل عثمان: 1/81، رقم الحديث: 112، تـ: شعيب الأرناؤط، ط: دار الرسالة العالمية]

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100821

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں