بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الاول 1448ھ 22 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لقب عتیق کی وجہ تسمیہ


سوال

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عتیق کیوں کہا جاتا ہے؟

جواب

عتیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب تھا، اور یہ لقب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو دیا تھا، ترمذی شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا'' أنت ‌عتيق ‌الله ‌من ‌النار'' یعنی تو دوزخ کی آگ سے خدا تعالی کا آزاد کیا ہوا ہے پس اسی دن سے آپ کا نام (لقب) عتیق ہوگیا۔

ترمذی شریف میں ہے:

"عن عائشة، أن أبا بكر، دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنت ‌عتيق ‌الله ‌من ‌النار» فيومئذ سمي عتيقا."

(ابواب المناقب، باب مناقب أبي بكر الصديق رضي الله عنه، ج:5، ص:616، ط:مطبعة مصفي البابي الحلبي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101811

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں