بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت قتادہ رحمہ اللہ کے قول:’’ تکبّر، انتہا پسندی، مبالغہ آرائی اور خود پرستی سے بچو، اللہ کےلیے عاجزی اختیار کرو، اللہ تمہیں بلند کر دے گا‘‘ کی تخریج


سوال

کیا درج ذیل قول،حضرت قتادہ رحمه الله کا ہے؟ رہنمائی فرمائیں:

’’ تکبّر ، انتہا پسندی ، مبالغہ آرائی اور خود پرستی سے بچو ،اللہ کےلیے عاجزی اختیار کرو، اللہ تمہیں بلند کر دے گا‘‘۔

جواب

سوال میں آپ  نے حضرت قتادہ  رحمہ اللہ کے جس قول کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ قول حافظ   شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے "سير أعلام النبلاء"میں،اور حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ نے "حلية الأولياء وطبقات الأصفياء"میں ذکر کیا ہے۔البتہ   مذکورہ قول کا جوترجمہ آپ نے ذکر کیا ہےوہ  پوری طرح  درست نہیں ہے۔ "سير أعلام النبلاء"میں حضرت قتادہ رحمہ اللہ کے مذکورہ قول کی  پوری عبارت اور اس کاترجمہ  درج ذیل ہے:

"حُسين بنُ محمّد: حدّثنا شَيبانُ عَن قتادة : {إنّما يخشى اللهَ مِن عبادِه العُلماءَ }، قال: كفَى بِالرُّهبة عِلماً، اجتنبُوا نَقضَ المِيثاق، فإنّ الله قدّم فيه وأوعدَ، وذَكره في آيِّ مِن القرآن تَقدِمةً ونَصيحةً وحُجةَ، إيّاكم والتّكلّفَ والتنطُّعَ والغُلوَّ والإِعجابَ بِالأنفُس، تَواضعُوا لله، لعلَّ اللهَ يرفعُكم".

(سير أعلام النبلاء، الطبقة الثالثة، 5/276، ترجمة: قتادة بن دعامة بن قتادة بن عزيز السدوسي، ط: مؤسسة الرسالة/حلية الأولياء، 2/337، ط: دار الكتاب العربي-بيروت)

ترجمہ:

’’حسین بن محمد کہتے ہیں:ہمیں شیبان نے(قرآنِ کریم کی آیت):{إنّما يخشى اللهَ مِن عبادِه العُلماءَ }کے بارے میں حضرت قتادہ رحمہ اللہ   سےبیان کیا،وہ فرماتے ہیں:خشیتِ الہی کے لیے (صرف) علم ہی  کافی ہے، (مزید فرماتے ہیں): معاہدے کوتوڑنے سے بچو،اس لیے کہ اللہ تعالی نے اسے مقدم رکھا ہےاور اس کے بارے میں ڈرایاہے،اور قرآنِ کریم کی آیات میں  مقدمہ،نصیحت اور دلیل کے طورپر اسے ذکر کیاہے۔تکلف،غلوومبالغہ آرائی اور خودپسندی سےبچو، اللہ تعالی کے لیےعاجزی اختیارکرو، امید  ہےاللہ تعالی (اس کی برکت سے)تمہیں بلند کردےگا‘‘۔

فقط والله ا علم


فتویٰ نمبر : 144503100016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں