بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 محرم 1448ھ 26 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر عموماً اختیاری تھا


سوال

ایک صاحب کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پھٹے ہوئے کپڑے اور فقر وفاقہ کا اظہار کیا گیا تو مولانا صاحب ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میرے آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم سارے جہانوں کے اور اللہ کریم کے کل خزانوں کے سردار ہیں یہاں تک کہ حوض کوثر جیسا چشمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کریم نے عطا فرمایا اور دنیا میں عرب کے پہاڑ سونا بنا کر پیش کرنے کا حکم بھی ہوا، الغرض اس شخص نے کہا کہ غربت کی نسبت میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ کی جائے چوں کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فاقہ اختیاری ہے وگرنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس، سواری اعلیٰ ترین تھی۔

جواب

عام طور  حضور صلی  اللہ  علیہ وسلم کا فقر وفاقہ  اور غریب رہنا اختیاری تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  فقر وفاقہ کی  سختیاں  اس لیے برداشت کرتے تھے تاکہ دوسروں کے لیے ایثار اور جاں نثاری  کا جذبہ  پیدا ہو اور دنیاوی مال متاع اور عیش وعشرت سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا جائے، اور نیز کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر وفاقہ مجبوری کی بناء پر بھی ہواہے۔

نیز فی نفسہ فقر وفاقہ محمود چیز ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند اور اختیار بھی  فرمایا ہے، اسی وجہ سے جمہور علماء کے نزدیک فقیر صابر غنی شاکر سے افضل ہے، لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غریب ہونے کی نسبت کرنے میں فی نفسہ کوئی مضائقہ  نہیں ہے۔

فتح الباری میں ہے:

"ويؤخذ مقصوده من جواز الشبع في الجملة من المفهوم والذي يظهر أن سبب عدم شبعهم غالبا كان بسبب قلة الشيء عندهم على أنهم كانوا قد يجدون ولكن يؤثرون على أنفسهم وسيأتي بعد هذا وفي الرقاق أيضا من وجه آخر عن أبي هريرة خرج النبي صلى الله عليه وسلم من الدنيا ولم يشبع من خبز الشعير ويأتي بسط القول في شرحه في كتاب الرقاق إن شاء الله تعالى."

(كتاب الأطعمة، وقول الله تعالى كلوا من طيبات ما رزقناكم، ج:9، ص:519، ط:دار المعرفة)

اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے:

"اصل میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا بھوکا پیاسا رہنا اچھے کھانوں سے گریز کرنا کبھی  کبھی مجبوری  کی وجہ سے بھی ہوا، ورنہ عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بھوک پیاس کی سختیاں بہ اختیار خود اس لیے برداشت کرتے تھے کہ دوسروں کے لیے ایثار اور جاں نثاری کا جذبہ پیدا ہو، دنیاوی مال ومنال اور عیش وراحت سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا جائے، کیوں کہ دنیوی ساز وسامان اور عیش وعشرت انسان کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور حق کی حمایت سے غافل بنادیتی ہے۔"

(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر، ص:60، ط:مکتبہ عمر فاروق)

فقط واللہ اعلم  


فتویٰ نمبر : 144712100466

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں