
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کا نکاح کس نے پڑھایا ہے حدیث کی روشنی میں جواب چاہیے۔ میں نے سنا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے نکاح پڑھایا تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت کا حواء کا نکاح کس نے پڑھایا یہ امر غیر ضروری ہے، اس امر کا دین کے کسی حکم کے پورا کرنے سے تعلق نہیں ہے ۔ ایک مسلمان کو صرف اتنے اجمال پر ایمان لانا چاہیے کہ آدم علیہ السلام اور حضرت حواء آپس میں میاں بیوی تھے۔
احادیث میں اس کی صراحت نہیں ہے کہ ان دونوں کا نکاح کس نے پڑھایا البتہ تاریخی روایات میں جہاں حضرت حواء کی پیدائش کا ذکر ہے وہاں یوں الفا ظ ملتے ہیں کہ ان دونوں کی تزویج (دونوں کا میاں بیوی بننا) اللہ کی طرف سے ہوئی ، اس کی کیا صورت اور کیفیت تھی اس کا علم اللہ کو ہی ہے، ہم اس معلومات حاصل کرنے کے مکلف نہیں ہیں ، نہ اس کی کھوج میں لگنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
"وسياق الآية يقتضي أن حواء خلقت قبل دخول آدم (5) الجنة، وقد صرح بذلك محمد بن إسحاق، حيث قال: لما فرغ الله من معاتبة إبليس، أقبل على آدم وقد علمه الأسماء كلها، فقال: {يا آدم أنبئهم بأسمائهم} إلى قوله: {إنك أنت العليم الحكيم} (6) قال: ثم ألقيت السنة على آدم -فيما بلغنا عن أهل الكتاب من أهل التوراة وغيرهم من أهل العلم، عن ابن عباس وغيره -ثم أخذ ضلعا من أضلاعه من شقه الأيسر، ولأم مكانه لحما، وآدم نائم لم يهب من نومه، حتى خلق الله من ضلعه تلك زوجته حواء، فسواها امرأة ليسكن إليها. فلما كشف عنه السنة وهب من نومه، رآها إلى جنبه، فقال -فيما يزعمون والله أعلم-: لحمي ودمي وروحي (1) . فسكن إليها.فلما زوجه الله، وجعل له سكنا من نفسه، قال له قبلا {يا آدم اسكن أنت وزوجك الجنة وكلا منها رغدا حيث شئتما ولا تقربا هذه الشجرة فتكونا من الظالمين}
ويقال: إن خلق حواء كان بعد دخوله الجنة، كما قال السدي في تفسيره (2) ، ذكره عن أبي مالك، وعن أبي صالح، عن ابن عباس، وعن مرة، عن ابن مسعود، وعن ناس من الصحابة: أخرج إبليس من الجنة، وأسكن آدم الجنة، فكان يمشي فيها وحشا ليس له زوج يسكن إليه، فنام نومة فاستيقظ، وعند رأسه امرأة قاعدة خلقها الله من ضلعه، فسألها: ما أنت؟ قالت: امرأة. قال: ولم خلقت؟ قالت: لتسكن إلي. قالت له الملائكة -ينظرون ما بلغ من علمه-: ما اسمها يا آدم؟ قال: حواء. قالوا: ولم سميت حواء؟ قال: إنها خلقت من شيء حي. قال الله: {يا آدم اسكن أنت وزوجك الجنة وكلا منها رغدا حيث شئتما}."
(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر ۳۵،ج:،ص:، دار طیبۃ للنشر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100172
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن