
ایک صاحب کے ہاں بہت سی مذہبی کتابیں جو ہزار وں روپے مالیت کی ہیں، ان کی کتابیں فروخت نہیں ہوسکتی اور ان کی لڑکی کی ایک ماہ بعد شادی ہونے والی ہے۔ کیا میں زکوۃ سے ان کی مدد کرسکتا ہوں ؟
اگر کتابیں فقہ حدیث تفسیر کی ہیں اور یہ صاحب ذی علم ہیں اور یہ کتابیں تدریس وغیرہ کے سلسلے میں ان کو ضرورت پڑتی ہے تو اس صورت میں ان کو زکوۃ دینا جائز ہے۔ چنانچہ رد المحتار میں لکھاہے:
"و إنّما الفرق بين الأهل و غیرهم في جواز أخذ الزکوۃ و المنع عنه، فمن كان ... الخ."
(کتاب الزکوۃ، ج2، ص: 265 ط: سعید)
کتبہ: احمد الرحمٰن الجواب صحیح: ولی حسن (1391ھ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 139105300001
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن