
میرا اپنا ذاتی گھر ہے ،جو کہ میں نے اپنے پیسوں سے خریدا تھا،میرے تین بیٹے ہیں،وہ اسی گھر میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں،میری بیوی حیات ہے،میری دو بیٹیاں بھی ہیں،میرے بیٹے اس گھر کے بجلی کابل ادا نہیں کرتے تھے،جس کی وجہ سے اب اس کا بل ہم پر سات لاکھ روپے چڑھ گیا ہے،ہمیں خرچہ بھی نہیں دیتے ہیں۔
اب میں نے تنگ آکر اس گھر کو فروخت کردیا ہے،بجلی کا بل اب دوسری پارٹی ادا کرے گی،اور ہمیں سولہ لاکھ روپے ادا کریں گے،میرے بیٹے مجھ سے اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔
تو کیا مذکورہ سولہ لاکھ روپے میں میرے بیٹوں کا حصہ ہے؟
میری ایک سوتیلی بیٹی ہے،کیا اس سوتیلی بیٹی کا حصہ ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل تنِ تنہا مذکورہ رقم کا مالک ہے،اور سائل جب تک حیات ہے،اس مذکورہ رقم میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
لہذا سائل کے بیٹوں کا اس رقم میں کوئی حصہ نہیں ہے،اور ان کا سائل سے حصہ طلب کرنا شرعا درست نہیں ہے۔
تاہم سائل کے وفات کے بعد سائل کے بیٹوں اور بیٹیوں کا اور سائل کی بیوی کا سائل کے جائیداد اور نقدی وغیرہ میں اپنے اپنے شرعی حصوں کے بقدر حصہ ہوگا،لیکن فی الحال سائل کی حیات میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
جبکہ سائل کی سوتیلی بیٹی کا سائل کی جائیداد اور نقدی وغیرہ میں نہ فی الحال سائل کی حیات میں کوئی حصہ ہے اور نہ ہی سائل کی وفات کے بعد کوئی حصہ ہوگا،البتہ اگر سائل کے دیگر ورثاء باہمی رضامندی سے اس کو کچھ دینا چاہے تو دے سکیں گے۔
نیز سائل سوتیلی بیٹی کے لیے ایک تہائی جائیداد کے دائرے میں رہتے ہوئے وصیت بھی کر سکتا ہے۔
جیسا کہ اللباب في شرح الكتاب میں ہے:
"ومن شرط الإرث تحقق موت الموروث وحياة الوارث."
(كتاب المفقود، ج: 2، ص: 217، ط: المكتبة العلمية، بيروت - لبنان)
مجلة الأحكام العدلية میں ہے:
"المادة (1192) كل يتصرف في ملكه كيفما شاء."
(الفصل الأول: في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك، المادة: 1192، ص: 230، ط: نورمحمد)
درر الحكام شرح مجلة الأحكام میں ہے :
"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره."
(المادة: 1192، ج: 1، ص: 473، ط: دار الکتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويستحق الإرث) ۔۔۔(برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا (وولاء)والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة كما أفاده بقوله (فيبدأ بذوي الفروض)أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب ثلاثة من الرجال وسبعة من النساء واثنان من التسبب وهما الزوجان
(قوله ثلاثة من الرجال) هم الأب والجد والأخ لأم ح (قوله وسبعة من النساء) هن البنت وبنت الابن والأخت الشقيقة والأخت لأب والأخت لأم والأم والجدة."
( کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 763، ط: ایچ ایم سعید)
وفیه أیضاً:
"(ولا يحرم ستة) من الورثة (بحال) ألبتة (الأب والأم والابن والبنت)أي الأبوان والولدان (والزوجان)."
( کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 780، ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100810
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن