
حضرت خضر علیہ السلام اگر زندہ ہے تو كب تك زندہ رہیں گے؟
واضح رہے كہ یہاں دو باتیں سمجھنے كی ہیں۔
1۔۔صورت مسئولہ میں جس مسئلہ كے متعلق سوال كیا گیاہے اس مسئلہ كا نہ كسی عقیدہ كے ساتھ كوئی تعلق ہے، اور نہ اس پر آخرت كی كامیابی كا كوئی دارومدارہے ،لہذا اس میں پڑنےكی كوئی ضرورت نہیں اورنہ اس كے بارے میں كسی بحث ومباحثہ كی كوئی ضرورت ہے۔
2۔۔ یہ ایك علمی بحث ہے علماء كرام كا اس میں اختلاف ہے كہ آیا حضرت خضرعلیہ السلام زندہ ہیں یانہیں ، جمہورعلماء اس كی حیات كے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں كہ حضرت خضرعلیہ السلام زندہ ہیں اور بہت سارے حضرات سے ان كی ملاقات ثابت ہے ، اور اس وقت تك زندہ رہیں گے جب تك كہ دجال كا خروج نہ ہو ،اورقرآن كریم كو روۓ زمین سے اٹھایا نہ جاۓ ۔ جبكہ بعض علماء فرماتے ہیں كہ حضرت خضرعلیہ السلام انتقال كرچكے ہیں۔
تفسیر قرطبی میں ہے:
"وروى محمد بن المتوكل عن [ضمرة بن ربيعة] عن عبد الله ابن [شوذب «2»] قال: الخضر عليه السلام من ولد فارس، وإلياس من بني إسرائيل يلتقيان كل عام في الموسم. وعن عمرو بن دينار قال: إن الخضر وإلياس لا يزالان حيين في الأرض ما دام القرآن على الأرض، فإذا رفع ماتا. وقد ذكر شيخنا الإمام أبو محمد عبد المعطي ابن محمود بن عبد المعطي اللخمي في شرح الرسالة له للقشيري حكايات كثيرة عن جماعة من الصالحين والصالحات بأنهم رأوا الخضر عليه السلام ولقوه، يفيد مجموعها غلبة الظن بحياته مع ما ذكره النقاش والثعلبي وغيرهما. وقد جاء في صحيح مسلم: (أن الدجال ينتهي إلى بعض السباخ التي تلي المدينة فيخرج إليه يومئذ رجل هو خير الناس- أومن خير الناس) الحديث، وفي آخره قال أبو إسحاق: يعني «3» أن هذا الرجل هو الخضر."
(سورۃ الكھف: ج: 11،12، ص: 43، ط: انتشارات ناصر خسرو طھران.)
تفسیر روح المعانی میں ہے:
"وذهب جمهور العلماء إلى أنه حي موجود بين أظهرنا وذلك متفق عليه عند الصوفية قدست أسرارهم قاله النووي، ونقل عن الثعلبي المفسر أن الخضر نبي معمر على جميع الأقوال محجوب عن أبصار أكثر الرجال، وقال ابن الصلاح: هو حي اليوم عند جماهير العلماء والعامة معهم في ذلك وإنما ذهب إلى إنكار حياته بعض المحدثين."
(سورة الكھف: آيت 62 تا 73، ج: 8، ص: 303، ط: دارالكتب العلميه بيروت.)
فتح الباری میں ہے:
"وقال ابن الصلاح: هو حي عند جمهور العلماء والعامة معهم في ذلك، وإنما شذ بإنكاره بعض المحدثين. وتبعه النووي وزاد أن ذلك متفق عليه بين الصوفية وأهل الصلاح، وحكاياتهم في رؤيته والاجتماع به أكثر من أن تحصر انتهى."
( كتاب أحاديث الأنبياء: باب حديث الخضر مع موسىٰ عليھما السلام، ج: 6، ص: 500، ط: دارالريان للتراث.)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
’’سوال[220]: حضرت خضرعلیہ الصلاۃو السلام زندہ ہیں یا انتقال ہوچكا،ایك شخص كہتاہےكہ حضرت خضرعلیہ الصلاۃ والسلام كاانتقال ہوچكا،ان كی حیات كاقا ئل ہوناكفرہے اوربعض لوگوں كے واقعات جومشہورہیں كہ ان كو حضرت خضرعلیہ الصلاۃ والسلام ملے وہ حضرت خضرعلیہ الصلاۃ والسلام نہیں ہوتے بلكہ شیطان ہوتاہے،لهذادریافت ہے كہ وہ زندہ ہیں یانہیں اورجوكچھ یہ شخص كہتاہے صحیح ہے یانہیں؟ مع حوالہ كتب جواب سے مطلع فرمائیں۔‘‘
الجواب حامداًومصلياً:
’’جمہور علماء كامذہب ہے كہ خضرعلیہ الصلاۃ والسلام زندہ ہیں،ہاں بعض حضرات اس كے قائل ہیں كہ انتقال كرچكے،
اوربعض روایات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضور اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی وفات پر تعزیت كے لۓ تشریف لاۓاورصحابہ كے مجمع میں تعزیت كی ہے اورحضرت ابوبكررضی اللہ عنہ نے فرمایا كہ یہ خضرعلیہ السلام ہیںكذا فى جمع الفوائد:/138،لہذا ان كی زندگی كے قائل ہونے كوكفركہنا ناواقفیت پرمبنی ہے اورغلط ہے اس سے توبہ لازم ہے۔فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔‘‘
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102182
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن