
ہاتھوں پر لگنے والی مہندی جب دھونے کے بعد سات یاآٹھ دن بعد اترتی ہے، تو وہ چھلکا بن کر اترتی ہے، تو کیااس صورت میں وہ مہندی لگانا جائز ہوگا؟یعنی چھلکے کی طرح اترتی ہے، چھلکا جیسے اترتا ہے۔
واضح رہے کہ ہر قسم کی مہندی لگانا جائز ہے بشرطیکہ مہندی میں کوئی ناپاک شے ملی ہوئی نہ ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں موجودہ دور میں بعض مہندیاں ایسی ہیں کہ لگانے کے بعد جب ہاتھ دھولیتے ہیں تو رنگ باقی رہتاہے، لیکن بعد میں جب رنگ اترنے لگتا ہے تو جھلی نما باریک تہہ چھلکا بن کر الگ ہوجاتی ہے،اس قسم کی مہندی لگانا جائز ہے،اور ایسی مہندی لگاکر وضو غسل کرنے سے وضو اور غسل ہوجائے گا؛ کیوں کہ وہ جسم تک پانی پہنچنے سے مانع نہیں ہوتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه، به يفتى.
(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللاً بالضرورة. قال في شرحها: ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن."
(كتاب الطهارة، ج1، ص154، سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز.
وفي الجامع الصغير: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ؟ قال: كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لايستطاع الامتناع عنه إلا بحرج، والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي، كذا في الذخيرة. وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار، كذا في الزاهدي ناقلاً عن الجامع الأصغر.والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل، كذا في السراج الوهاج ناقلاً عن الوجيز فقط واللہ اعلم."
(كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول في فرائض الوضوء، ج1، ص4، رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101727
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن