
فقہِ حنفی کے ایک مسئلہ میں اشکال پیش آیا ہے، ازالہ مطلوب ہے۔ احادیثِ صحیحہ میں یہ ورد ہے کہ نَهَى رَسُولُ الله ﷺ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ (صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح) اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حرمت کے لیے دو اوصاف کا جمع ہونا شرط ہے: (1) جانور درندہ (سبع) ہو، یعنی عرفاً افتراس اور چیر پھاڑ کر کھانے والا ہو، (2) اور وہ نوکیلے (کچلی) دانت رکھتا ہو۔ کیونکہ حدیث میں مطلق "كل ذي ناب" نہیں فرمایا گیا، بلکہ "كل ذي ناب من السباع" فرمایا گیا ہے، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف نوکیلے دانت ہونا کافی نہیں، بلکہ درندہ ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی بنا پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ: فقہائے احناف کے نزدیک ہاتھی کا جھوٹا ناپاک کیوں قرار دیا گیا ہے؟ جبکہ ہاتھی: عرفاً درندہ (سبع) نہیں، نہ ہی وہ چیر پھاڑ کر شکار کرنے والا جانور ہے، بلکہ وہ عموماً سبزی خور ہے، تو پھر حدیث کے ظاہر مفہوم کے مطابق وہ "ذو ناب من السباع" کے تحت داخل نہیں ہوتا۔ براہِ کرم وضاحت فرما دی جائے کہ: احناف نے ہاتھی کو کس بنیاد پر سباع میں شامل فرمایا ہے؟ آیا یہ لغوی بنیاد پر ہے یا اصطلاحی و عرفی بنیاد پر؟ اور حدیث کے ظاہر مفہوم کے ساتھ اس تطبیق کی صحیح صورت کیا ہے؟ آپ کی رہنمائی کا منتظر رہوں گا۔
صورتِ مسئولہ میں اہل اصطلاح نے ہاتھی کو سباع(درندہ)شمار کیاہے اس لیے کہ اہل اصطلاح نے جودرندے کی تعریف کی ہے اس میں ہاتھی بھی داخل ہے، درندہ کی تعریف یہ ہے کہ جو عادتاً جھپٹ کر پکڑنے والا ہو یا لوٹ مار کرنے والا ہو اور پنجوں یا دانتوں سے زخمی کرنے والا اور قتل کرنے والا ہو۔
علامہ دمیری رحمہ اللہ نے ہاتھی کے بارے میں حیات الحیوان میں لکھا ہے کہ مشہور قول کے مطابق ہاتھی کا گوشت کھانا حرام ہے، اور امام غزالیؒ نے اپنی کتاب الوسیط میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ ہاتھی “ذو ناب مکادح” ہے، یعنی ایسا جانور جو اپنے دانتوں (کچلیوں) کے ذریعے مقابلہ کرتا ہے، لڑتا اور جنگ کرتا ہے۔
اسی طرح اعلاء السنن میں علامہ ظفراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:ہاتھی کا درندوں (سباع) میں سے ہونا اتنا ظاہر ہے کہ کسی عقل مند پر مخفی نہیں ہو سکتا۔
ممکن ہے (اس کہنے والے نے) صرف پالتو ہاتھی دیکھے ہوں اور پہاڑوں اور صحراؤں میں رہنے والے جنگلی ہاتھی نہ دیکھے ہوں۔
اور اگر پالتو ہو جانا درندگی کے ختم ہونے کی دلیل ہو، تو پھر ریچھ اور چیتا بھی درندوں میں سے نہ ہوں گے، حالانکہ یہ سب جانور انسان سے مانوس ہو جاتے ہیں اور اس کی بات ماننے لگتے ہیں۔
اور چونکہ جانور کے حرام ہونے کےلیے حدیث میں دو چیزوں کا ذکر ہے ،ایک یہ ہے کہ وہ نوکیلے (کچلی والے) دانتوں والا ہو،دوسرایہ ہے کہ درندہ ہواور ہاتھی کی کچلیاں تو ہر ایک کو نظر آتی ہیں،اسی طرح فقہاء کرام اور اہل لغت نے ہاتھی کو درندہ شمار کیا ہے،لہذا ہاتھی کا گوشت کھانا بھی حرام ہےاور اس کا جھوٹا بھی ناپاک ہے۔
اعلاء السنن میں ہے:
" والفيل محرم، قال أحمد: ليس هو من أطعمة المسلمين، وقال الحسن: هو مسخ، وكرهه أبو حنيفة، والشافعي ورخص في أكله الشعبي، ولنا نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن اكل كل ذي ناب من السباع ، وهو من أعظمها نابا، ولأنه مستخبث فيدخل في عموم الآية المحرمة، كذا في "المغني" (٦٧:١١).
وأغرب ابن حزم حيث قال: وأما الفيل فليس سبعا، ولا جاء في تحريمه نص فهو حلال اهـ (٤٠٣:٧). قلنا: كونه من السبع أظهر من أن يخفى على عاقل، ولعله رأى الفيلة المستأنسة، ولم ير المتوحشة في الجبال والصحارى، ولو كان الاستئناس دليل انعدام السبعية لم يكن الدب، والفهد أيضاً من السباع، فإن كلها تستأنس، وتنقاد للإنسان، وأى نص أصرح في تحريمه من قوله صلى الله عليه وسلم: كل ذي ناب من السباع فأكله حرام والفيل من أعظمها نابا، كما لا يخفى.
والعجب ممن يقول : بأن الكلب ذو ناب من السباع، وكذلك الهر والثعلب، فكل ذلك حرام، ويخفى عليه ناب الفيل، فإن كان كذلك، فقد خفى عليه ما لم يخف على أحد غيره."
(كتاب الذبائح،باب النهى عن أكل كل ذي ناب من السباع ،و ذي مخلب من الطير،ج:17،ص:154،ط:ادارة القرآن والعلوم الاسلامية كراتشى)
تکملۃ فتح القدیر میں ہے:
"(ولا يجوز أكل ذي ناب من السباع ولا ذي مخلب من الطيور) لأن «النبي عليه الصلاة والسلام نهى عن أكل كل ذي مخلب من الطيور وكل ذي ناب من السباع». وقوله من السباع ذكر عقيب النوعين فينصرف إليهما فيتناول سباع الطيور والبهائم لأكل ما له مخلب أو ناب. والسبع كل مختطف منتهب جارح قاتل عاد عادة."
(كتاب الذبائح،فصل فيما يحل أكله وما لا يحل،ج:9،ص: 499،ط:دار الفكر، بيروت)
حیات الحیوان الکبریٰ میں ہے:
" يحرم أكل الفيل على المشهور، وعلله في الوسيط، بأنه ذو ناب مكادح أي مغالب مقاتل."
(الفيل،ج:2،ص:317،ط:دار الكتب العلمية، بيروت)
البحرالرائق میں ہے:
"(ولا يؤكل ذو ناب ولا مخلب من سبع وطير) يعني لا يحل أكل ذي ناب من سباع البهائم وذي مخلب من سباع الطير لما روى ابن عباس - رضي الله تعالى عنهما - أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن أكل ذي ناب ومخلب من سبع وطير» رواه مسلم والجماعة والسباع جمع سبع وهو كل مختطف منتهب جارح قاتل عادة...ويدخل فيه الفيل أيضا لأنه ذو ناب...والسباع الأسد والذئب والنمر والفهد والثعلب والضبع والكلب والفيل."
(كتاب الذبائح،فصل فيما يحل ولا يحل من الذبائح،ج:8،ص:195،ط:دار الكتاب الإسلامي)
شرح مختصرالکرخی میں ہے:
"قال أبو الحسن: قال محمد في سؤر الفيل: إنه كسور السباع؛ لأنه سبع، وهذا صحيح؛ لأنه ذو ناب."
(باب الأسآر،فصل: سؤر الفيل،ج:1،ص: 173،ط:دار أسفار - الكويت)
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:
"وأما سؤر الفيل فنجس؛ لأنه سبع ذو ناب."
(كتاب الطهارة،ج:1،ص:21،ط:المطبعة الخيرية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101973
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن