
رمضان المبارک میں حرمین شریف حاضری کا ارادہ ہے، آپ سے دعاؤں اور کچھ مسائل میں رہنمائی درکار ہے۔
1. رمضان میں حرمین کی جماعت میں وتر میں شامل ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ وتر میں شامل نہ ہونے کی صورت میں امام صاحب کے ساتھ جو وہ وتر کی آخری رکعت میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں اس دعا میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟
2. حرمین میں تراویح کی صرف 10 رکعت ہوتی ہیں، باقی 10 رکعت خود مکمل کرنی ہوگی؟
3. حرمین میں تراویح میں مکمل قرآن نہیں پڑھا جاتا، قرآن کریم کا کچھ حصہ آخری عشرے میں تہجد میں مکمل کیا جاتا ہے، تو کیا تہجد کی جماعت میں تراویح کی نیت سے شریک ہو سکتے ہیں یا نہیں؟
4. اگر تہجد میں تراویح کی نیت سے اقتدا نہیں کر سکتے تو مکمل قرآن مجید کے سماع کی سنت کیسے پوری ہوگی؟
5. تراویح کی آخری رکعت میں 29 شب کو دعا ختم قرآن کروائی جاتی ہے، اس میں شریک ہو سکتے ہیں؟ اور کیا ہاتھ اٹھا کر یا کس طرح دعا مانگی جائے؟ کیا ہر دعا کے بعد اٰمین بھی کہنا ہے یا صرف دل میں کہنا ہے؟
1. حنفی مسلک میں وتر کی نماز تین رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے؛ اس لیے حنفی کے لیے دو سلام کے ساتھ وتر پڑھنا درست نہیں ہے،حنفی حضرات کو چاہیے کہ وہ حرمین میں تراویح تو ان کے امام کی اقتدا ہی میں ادا کریں، لیکن وتر کی نماز میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوں، بلکہ اپنی علیحدہ اجتماعی یا انفرادی پڑھ لیں ، اور اگر ان کے ساتھ ادا کرلی ہو تو اس کا اعادہ کرلیں۔
جو دعائیں وتر میں مانگی جاتی ہیں اس میں نماز کے باہر سے بھی شریک ہوا جا سکتا ہے، خواہ بیٹھے ہوں یا کھڑے ہوں، ہاتھ اٹھا کر ان دعاؤں میں شرکت کی جا سکتی ہے، ان دعاؤں پر آمین بھی کہا جا سکتا ہے۔
2. بقیہ دس رکعات تراویح از خود جماعت کے ساتھ یا تنہا پوری کر لی جائیں۔
3. تراویح کی نیت سے قیام اللیل میں شریک ہونے سے تراویح کی نماز ادا نہیں ہوگی،نیزقیام اللیل کی جماعت میں شریک ہونے سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ رمضان کی تراویح ، صلاۃ الکسوف اور صلاۃ الاستسقاء کے علاوہ کسی بھی طرح کی نفل نماز کا علی سبیل التداعی جماعت کے ساتھ پڑھنا حدیث وفقہ سے ثابت نہیں ہے ؛ اس لیے حضرات حنفیہ کے نزدیک رمضان المبارک اور غیر رمضان میں مذکورہ تینوں نمازوں کے علاوہ کوئی بھی نفل نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا جس میں مقتدی کی تعداد تین سے زائد ہو چاہے تہجد ہو یا صلاۃ التسبیح ہو ، قیام اللیل ہو یا کوئی اور نماز ہو، جماعت کے ساتھ پڑھنا راجح قول کے مطابق مکروہِ تحریمی ہے، چوں کہ حرمین میں قیام اللیل میں مقتدیوں کی تعداد تین سے زیادہ ہوتی ہے؛ اس لیے اس طرح کی جماعت میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔
4. تراویح کی بقیہ دس رکعات میں کسی حافظ صاحب سے رہ جانے والے قرآن کے سننے کی ترتیب بنا لی جائے۔
5.ہاتھ اٹھائے بغیر آہستہ آواز سے آمین کہہ لیا جائے۔
البحر الرائق میں ہے:
"فظهر بهذا أنّ المذهب الصحيح صحّة الاقتداء بالشافعي في الوتر إن لم يسلّم على رأس الركعتين وعدمها إن سلّم، والله الموفق للصواب."
(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، 2/40، ط: سعید)
حلبی کبیر میں ہے:
"واعلم أن النفل بالجماعة علی سبيل التداعي مكروه."
(ص:432،تتمات من النوافل، ط: سهيل اكيدمي)
العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
"وأما إذا كان في التطوع فهو حسن ؛ لحديث حذيفة رضي الله عنه،" قال: صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الليل، فما مر بآية فيها ذكر الجنة إلا وقف وسأل الله الجنة ، وما مر بآية فيها ذكر النار إلا وقف وتعوذ بالله من النار."
(كتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، جلد : 1 ، صفحه : 342 ، طبع : دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100147
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن