
ناجائز طریقہ سے حاصل کی گئی کمائی اگرچہ اس کا استعمال ممنوع ہے، لیکن اس کو اپنی سادات بیوی پر بغیر ثواب کی نیت سے تقسیم کرنا شرعا کیسا ہے؟
ناجائز طریقہ سے حاصل کی گئی آمدنی کو جو بلاثواب صدقہ کرنے کا جو حکم ہے اس کا مصرف زکوٰۃ اور صدقات واجبہ والا نہیں ہے، لہذا اس کو سادات بیوی پر استعمال کرنے کی گنجائش ہے، البتہ سادات کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"له مال فيه شبهة إذا تصدق به على أبيه يكفيه ذلك ولا يشترط التصدق على الأجنبي وكذا إذا كان ابنه معه حين كان يبيع ويشتري وفيها بيوع فاسدة فوهب جميع ماله لابنه هذا خرج من العهدة كذا في القنية."
(كتاب الكراهية، الباب الخامس عشر في الكسب، ج:5، ص:349، ط:سعيد)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"عن إبراهيم بن مهاجر، قال: سألت إبراهيم، عن الصدقة على غير أهل الإسلام فقال: أما الزكاة فلا وأما إن شاء رجل أن يتصدق فلا بأس."
(كتاب الزكاة، ما قالوا في الصدقة يعطى منها أهل الذمة، ج:2، ص:402، ط:مكتبة الرشد)
امداد المفتین میں ہے:
"الغرض ارباح فاسدہ اور اموال حرام جو واجب التصدق ہیں ان کا مصرف لقطہ کی طرح فقراء و مساکین ہیں، بناء مدارس ورباطات اور مصالح مسلمین میں ان کا خرچ کرنا جائز نہیں۔
(2، 3) تصریحات مندرجہ میں واضح ہو گیا کہ مال حرام جس کا صدقہ کرنا واجب قرار دیا جاتا ہے وہ ہر مال حرام نہیں بلکہ صرف وہ مال حرام ہے جس کے مالک نا معلوم یا لا پتہ ہونے کی وجہ سے مالک کو واپس نہیں کیا جا سکتا نیز یہ کہ یہ مال ایسی صورت میں بحکم لقطہ ہو جاتا ہے اور اصل مالک کی طرف سے صدقہ کیا جاتا ہے اس لیے فقراء کو اس کا لینا جائز ہے ان کے لیے یہ مال حرام نہیں اور اسی بناء پر ایسے اموال کا صدقہ اپنے ماں باپ اور اولاد اور بیوی پر بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس کا صدقہ نہیں بلکہ اصل مالک کا ہے کما فی عبارة الهندية " والله تعالى اعلم۔"
(کتاب الزکاۃ، اشباع الکلام فی مصرف الصدقۃ من المال الحرام، ص:386، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101504
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن