بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام واجب التصدق مال سادات پر بغیر ثواب کی نیت سے خرچ کرنا مناسب نہیں ہے


سوال

ناجائز طریقہ سے حاصل کی گئی کمائی اگرچہ اس کا استعمال ممنوع ہے، لیکن اس کو اپنی سادات بیوی پر بغیر ثواب کی نیت سے تقسیم کرنا شرعا کیسا ہے؟

جواب

ناجائز طریقہ سے حاصل کی گئی آمدنی کو جو بلاثواب صدقہ کرنے کا جو  حکم ہے اس کا مصرف زکوٰۃ اور صدقات  واجبہ والا نہیں ہے، لہذا اس کو سادات بیوی پر استعمال کرنے کی گنجائش ہے، البتہ سادات کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"له مال فيه شبهة إذا تصدق به على أبيه يكفيه ذلك ولا يشترط التصدق على الأجنبي وكذا إذا كان ابنه معه حين كان يبيع ويشتري وفيها بيوع فاسدة فوهب جميع ماله لابنه هذا خرج من العهدة كذا في القنية."

(كتاب الكراهية، الباب الخامس عشر في الكسب، ج:5، ص:349، ط:سعيد)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن إبراهيم بن مهاجر، قال: سألت إبراهيم، عن الصدقة على غير أهل الإسلام فقال: أما الزكاة فلا وأما ‌إن ‌شاء ‌رجل ‌أن ‌يتصدق ‌فلا ‌بأس."

(كتاب الزكاة، ما قالوا في الصدقة يعطى منها أهل الذمة، ج:2، ص:402، ط:مكتبة الرشد)

امداد المفتین میں ہے:

"الغرض ارباح فاسدہ اور اموال حرام جو واجب التصدق ہیں ان کا مصرف لقطہ کی طرح فقراء و مساکین ہیں، بناء مدارس ورباطات اور مصالح مسلمین میں ان کا خرچ کرنا جائز نہیں۔

(2، 3تصریحات مندرجہ  میں واضح ہو گیا کہ مال حرام جس کا صدقہ کرنا واجب قرار دیا جاتا ہے وہ ہر مال حرام نہیں بلکہ صرف وہ مال حرام ہے جس کے مالک نا معلوم یا لا پتہ ہونے کی وجہ سے مالک کو واپس نہیں کیا جا سکتا نیز یہ کہ یہ مال ایسی صورت میں بحکم لقطہ ہو جاتا ہے اور اصل مالک کی طرف سے صدقہ کیا جاتا ہے اس لیے فقراء کو اس کا لینا جائز ہے ان کے لیے یہ مال حرام نہیں اور اسی بناء پر ایسے اموال کا صدقہ اپنے ماں باپ اور اولاد اور بیوی پر بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس کا صدقہ نہیں بلکہ اصل مالک کا ہے کما فی عبارة الهندية " والله تعالى اعلم۔"

(کتاب الزکاۃ، اشباع الکلام فی مصرف الصدقۃ من المال الحرام، ص:386، ط:دار  الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101504

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں