
حرام صابن، شیمپو اور لوشن وغیرہ استعمال کرنا اور یہ سوچنا کہ غسل وغیرہ کرنے سے شیمپو نکل جائےگا اور لوشن وغیرہ وضو سے دُھل جائے گا، کیا یہ سوچ رکھ کے حرام چیز استعمال کرنا جائز ہے ؟
حرام صابن وغیرہ سے اگر وہ صابن، شیمپو اور لوشن مراد ہے، جس کے اجزائے ترکیبی میں کوئی حرام یا ناپاک چیز مثلاً مردار یا خنزیر کی چربی وغیرہ شامل ہوتی ہے، تو اس بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر حرام اور ناپاک چیز کی ماہیت مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہو یعنی وہ چیز اپنی اصل حقیقت وماہیت اور خاصیات چھوڑ کر دوسری حقیقت وماہیت اور خاصیات میں بدل گئی ہو، نیز نجس ہونے کی صورت میں نجاست کا کوئی اثر بھی باقی نہ رہا ہو (جیسے مثلا شراب کی ماہیت بدلنے سے سرکہ بن جائے ،کسی مردار جانور کا گوشت نمک میں رکھے رہنے کی وجہ سے نمک بن جائے یا جلنے کی وجہ سے کوئلہ بن جائے یا گوبر کو جلا کر راکھ بنالیا جائے) تو ایسی صورت میں وہ حرام اور ناپاک چیز حلال اور پاک چیز بن جاتی ہے، لیکن اگر حرام اور ناپاک چیز کی ماہیت مکمل طور پر تبدیل نہ ہوئی ہو، بلکہ حرام اور ناپاک چیز میں صرف ظاہری یعنی شکل و صورت یا رنگ وبو وغیرہ کی تبدیلی واقع ہوئی ہو(مثلاً کسی حرام یا ناپاک چیز میں صرف کوئی رنگ یا خوشبو شامل کردی جائے، یا ٹھوس چیز کو پِگھلا دیا جائے یا بہنے والی چیز کو جما دیا جائے) تو ایسی صورت میں وہ حرام اور ناپاک اشیاء حلال اور پاک نہیں بنے گی، بلکہ حسبِ سابق ناپاک ہی رہے گی۔
لہٰذا اگر صابن، شیمپو اور لوشن وغیرہ میں میں کوئی حرام چیز ملا کر اسے بنایا گیا ہو اور اس کی حقیقت اور ماہیت اور اس کے اوصافِ خاصہ مکمل طور پر تبدیل ہوگئے ہوں، تو ایسی صورت میں وہ صابن، شیمپو اور لوشن استعمال کرنا جائز ہوگا اور اگر اس کی حقیقت اور ماہیت مکمل طور پر تبدیل نہ ہوئی ہو، تو اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔اگرچہ وضو یا غسل سے دھل کر نجاست بعد میں زائل ہوجاتی ہو۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(و) يطهر (زيت) تنجس (بجعله صابونا) به يفتى للبلوى. كتنور رش بماء نجس .'
(قوله: ويطهر زيت إلخ) قدذكر هذه المسألة العلامة قاسم في فتاواه، وكذا ما سيأتي متنا وشرحها من مسائل التطهير بانقلاب العين، وذكر الأدلة على ذلك بما لا مزيد عليه، وحقق ودقق كما هو دأبه - رحمه الله تعالى -، فليراجع.
ثم هذه المسألة قد فرعوها على قول محمد بالطهارة بانقلاب العين الذي عليه الفتوى واختاره أكثر المشايخ خلافا لأبي يوسف كما في شرح المنية والفتح وغيرهما. وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى. اهـ. وظاهره أن دهن الميتة كذلك لتعبيره بالنجس دون المتنجس إلا أن يقال هو خاص بالنجس؛ لأن العادة في الصابون وضع الزيت دون بقية الأدهان تأمل، ثم رأيت في شرح المنية ما يؤيد الأول حيث قال: وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:315، ط:سعيد)
کفایت المفتی میں ہے:
"انقلابِ حقیقت سے طہارت و نجاست کا حکم بدل جاتا ہے۔
یہ حکم طہارت بانقلابِ حقیقت امام محمد ؒ کا قول ہے اور اسی پر فتویٰ ہے اور اکثر مشائخ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
صابون میں روغن نجس یا چربی کی حقیقت بدل جاتی ہے اور انقلابِ عین حاصل ہوجاتا ہے۔
پس اب سوال کا جواب واضح ہوگیا کہ صابون خواہ کسی چیز کی چربی یا روغن نجس سے بنایا جائے، صابون بن جانے کے بعد وہ پاک ہوجاتا ہے اور اس کا استعمال جائز ہے، کیوں کہ انقلابِ حقیقت کی وجہ سے وہ چربی چربی اور روغن روغن نہ رہا بلکہ صابون ہو کر پاک ہوگیا، جسیے مشک اصل میں خون ناپاک ہوتا ہے، لیکن مشک بن جانے کے بعد وہ پاک اور جائز الاستعمال ہوجاتا ہے ، پس ولایتی صابون کے استعمال کے لیے اس تحقیقات کی کچھ ضرورت نہیں کہ اس کے اجزاء کیا ہیں؟ وہ پاک ہیں یا ناپاک؟ کیوں کہ حقیقتِ صابونیہ اس کی طہارت کی کفیل ہے، جیسے کہ حقیقتِ مسکیہ اس کی طہارت کی ضامن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انقلابِ حقیقت سے حکم بدل جانے کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے، اس میں اتنی بات یقناً ثابت ہے اور فقہاء کی تصریحات بھی اس کے متعلق آپ ملاحظہ فرماچکے کہ جب انقلاب حقیقت ہوجائے، تو حکم بدل جاتا ہے، لیکن یہ بات ابھی تک قابلِ تحقیق ہے کہ انقلابِ حقیقت سے مراد کیا ہے؟ تو واضح ہو کہ انقلابِ حقیقت سے مراد یہ ہے کہ وہ شئی فی نفسہ اپنی حقیقت چھوڑ کر کسی دوسری حقیقت میں متبدل ہوجائے، جیسے شراب سرکہ ہوجائے، یا خون مشک بن جائے یا نطفہ گوشت کا لوتھڑا وغیرہ وغیرہ کہ ان صورتوں میں شراب فی نفسہ اپنی حقیقت خمریہ اور خون نے اپنی حقیقت دمویہ اور نطفہ نے اپنی حقیقتِ منویہ چھوڑدی اور دوسری حقیقتوں میں متبدل ہوگئے، حقیقت بدل جانے کا حکم اسی وقت دیا جاسکتا ہے کہ حقیقت اولی منقلبہ کے آثار مخٹصہ اس میں باقی نہ رہیں جیسا کہ امثلہ مذکورہ میں پایا جاتا ہے کہ سرکہ بن جانے کے بعد شراب کے آثار مختصہ بالکل زائل ہوجاتے ہیں۔
بعض آثار کا زائل ہوجانا یا بوجہ قلتِ آثار کا محسوس نہ ہونا موجوبِ انقلاب نہیں، جیسا کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر آٹے میں کچھ شراب ملا کر گوندھ لیا جائے اور روٹی پکالی جائے، تو وہ روٹی ناپاک ہے۔"
(کفایت المفتی، ج:2، ص:231، 232، ط:دار الاشاعت)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
مردار کی چربی نجس ہے اور خنزیر نجس العین ہے، جب تک قلبِ ماہیت ہو کر حقیقت اور خواص کی تبدیلی نہ ہوجائے، استعمال جائز نہیں۔
(فتاوی محمودیہ، ج:5، ص:241، ط:جامعہ فاروقیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101267
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن