
اگر حرام کمائی کے پیسوں سے حلال چیزیں خرید کر حلال روزگار یا کاروبار شروع کیا جائے اور بعد میں جتنےحرام پیسوں سے حلال کام شروع کیا تھا وہ صدقہ کردیا جائے تو کیا یہ جائز ہوگا ؟
واضح رہے کہ قصداً وعمداً حرام مال( چاہےبالعوض ہو یا بلاعوض) سے حلال کاروبار کرنا بھی جائز نہیں،اس لیے کہ حرام مال کا حکم یہ ہے کہ:
اگر وہ(مالِ حرام)بلاعوض حاصل ہو جیسے غصب، سود،رشوت وغیرہ کا مال تو اسے مالک کو لوٹانا ضروری ہے،اگر مالک یا اس کے ورثاء کو (مالک کے فوت ہوجانے کی صورت میں)لوٹانا ممکن نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر فقراء کو صدقہ کردینا لازم ہے۔
تاہم اگر کسی شخص نے لاعلمی یانادانی میں اُس مال حرام سےحلال کاروبار شروع کردیاتواس کا یہ عمل تو ناجائز ہوگالیکن اس کی آمدن حرام نہیں کہلائے گی کہ وہ منافع میں سے ضرورت کے بقدر رقم رکھ کر باقی رقم صدقہ کرتا رہے اورجب حرام کی اصل رقم جو کاروبار میں لگائی ہے پوری ہوجائےتواب یہ کاروبار اور اس کے منافع اس کے لیے حلال ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد ج:5، ص:99، ط: سعید)
وفیه ایضاً:
"(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام."
(کتاب البیوع، باب المتفرقات من أبوابها، مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه،ج:5، ص:235، ط:سعید)
اعلاء السنن میں ہے :
"فطريق التخلص منه و تمام التوبه بالصدقه به، فان كان محتاجا إليه فله أن يأخذ بقدر حاجته ويتصدق بالباقي،فهذا حكم كل كسب خبيث لخبث عوضه عينا كان أو منفعة. ولا يلزم من الحكم بخبثه وجوب رده على الدافع، فإن النبي صلى الله عليه وسلم حكم بخبث كسب الحجام ولا يجب رده على الدافع."
(كتاب الإجارة، باب النهى عن مهر البغى وحلوان الكاهن، ج:21، ص: 386 ط: المکتبة الأشرفیة)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”جس قدر مال بطریق حرام کمایا ، اس کی واپسی لازم ہے، اگر وہ شخص موجود نہ ہو جس سے مثلا مال حرام( مثلا رشوت یا غصب ) لیا ہو، مر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دیا جائے۔ ورثاء بھی موجود نہ ہوں، یا کوشش کے باوجود ان کا علم نہ ہو سکے تو غر یوں محتاجوں کو صدقہ کر دیا جاۓ ، لیکن اس مال کے ذریعہ دوسرا حلال مال کمایا گیا تو اس کو حرام نہیں کہاجائے گا۔کذا فی رد المحتار۔“
(کتاب الحظر و الاباحۃ، باب المال الحرام و مصرفہ، ج:18، ص:409، ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100681
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن