
1۔حرام مال کو پاک کرنے کے لیے حرام مال کسی کو بھی دے سکتا ہے یا مستحق ِ زکات فقراء کو دینا ضروری ہے؟ کیا یہ لقطے کے حکم میں ہے یا اس کا مصرف ، مصرفِ زکاۃ ہے؟
2۔اگر کوئی شخص حرام مال کا مالک ہے اور اس نے یہ طے کرلیا کہ مجھے اتنی رقم نکال کر اس مال کو پاک کرنا ہے تو اب اس پر حرام کو پاک کرنے کے بعد اس مال میں زکات لازم ہوگی، یا طے کرنے کے بعد ادائیگی سے پہلے بھی لازم ہوگی؟
3۔اگر کسی شخص نے بینک کی کمائی سے گھر وغیرہ خریدے ہوں اور اس کا کرایہ آرہا ہے،تو اب اس کے پاک ہونے کے لیے اتنی قیمت متعین کرکے صدقہ کیا جائے یا بعینہ وہی چیز صدقہ کرنا ضروری ہے؟ نیز قیمت متعین کرنے کی صورت میں تعیین کے بعد اس حرام مال کی آمدن حلال ہوگی یا صدقہ کے بعد حلال ہوگی؟ابھی وہ آدمی بینک سے ریٹائر ہوچکا ہے، لیکن اس گھر سے کرایہ آتا ہے، تو ایسے آدمی کے گھر دعوت کھانا جائز ہے؟
1)حرام مال کے حکم میں یہ تفصیل ہے کہ :
الف۔ اگر حرام مال بصورتِ غصب یا چوری کے ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اصل رقم اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، یعنی وہ جہاں سے آیا ہے وہیں اسے واپس دے دیا جائے،اور اگر مالک وفات پاچکا ہو تو اس کے ورثاء کو لوٹا دیا جائے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو، یعنی ورثاء کا بھی علم نہ ہو تو مال کے مالک کی طرف سے ثواب کی نیت کرتے ہوئے اسے کسی نادار فقیر مستحقِ زکات کو صدقہ کرنا ضروری ہے، اور غصب و چوری کے مال سے کاروبار کرکے جو منافع حاصل ہو وہ بھی حلال نہیں ہے، کیوں کہ جو چیز حرام سے حاصل ہوتی ہے، وہ بھی حرام ہے۔
ب۔اور اگر حرام مال سود، جوا ، رشوت کی صورت میں ہو تو اس میں بھی اصل سرمایہ اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، تاہم اس قسم کے حرام مال سے کاروبار کرکے جو منافع حاصل کئے ہیں، وہ اس کے لیے حلال ہوں گے، اور اگر سودی رقم کا کوئی مالک نہ ہو جیسے بینک کا سود تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس قسم کی سودی رقم آئی ہو تو اس کو بلا نیتِ ثواب مستحق زکات غرباء میں تقسیم کردیا جائے۔
ج۔اور اگر حرام کا مال کسی چیز کے بدلے میں حاصل کیا گیا ہو، جیسے حرام ملازمت وغیرہ کے ذریعے کمائی گئی آمدنی ہو تو اسے مالک کو واپس کرنا درست نہیں ہے، بلکہ اسے ثواب کی نیت کے بغیر غرباء پر صدقہ کردیا جائے؛کیوں کہ حرام مال ہمارے اکابر کی نزدیک لقطہ کے حکم میں ہے لیکن اس میں تملیک ضروری ہے۔
2) اگر کسی شخص کا مال خالص حرام ہے تو اس حرام میں زکات واجب نہیں ہے؛ کیوں کہ حرام مال کا کیا کرنا ہے، اس کا حکم ماقبل جز الف میں گزر گیا ، اور اگر حرام مال، حلال مال کے ساتھ مخلوط ہے تو اس صورت میں حرام مال کی مقدار کو نکالنے کے بعد اگر حلال مال نصاب کے برابر ہے یا اس سے زیادہ ہے تو اس پر زکات واجب ہوگی، اور اگر نصاب کے برابر نہیں، بلکہ اس سے کم ہے تو اس صورت میں زکات واجب نہیں ہوگی، نیز حرام مال میں زکات تب ہوگی ہے ، جب اس کا عوض دے یعنی اس کی بقدر رقم دے دیں تو وہ پاک ہوجائے گا، اگر اس کے بدلے مال دیا نہیں ہے، صرف متعین کردیا کہ میرا اتنا مال حرام ہے، میں دوں گا تو صرف حرام کا عوض کی تعیین سے حرام مال پاک نہیں ہوتا، جب تک اس کا عوض مستحق زکات کو دیا نہیں ہے ۔
3)اگر بعینہ حرام مال سے خریدا ہو تو اس سے آنے والی آمدنی کرایہ وغیرہ بھی حرام ہوگا ، جب تک حرام کے بقدر رقم صدقہ نہ کرے، حرام کے بقدر صرف تعیین کرنے سے پاک نہیں ہوگا جب تک نکالے نہیں، نیز حرام چیز کا بعنیہ تصدق بہتر ہے، تاہم اس کے بقدر رقم صدقہ کرنے سے بھی وہ چیز پاک ہوجاتا ہے، اور اگر حرام اور حلال مخلوط سے ہو تو اس کے بقدر صدقہ کافی ہے، نیز ایسی آدمی کے گھر کھانے کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم کہ بعینہ حرام مال سے کھلا رہا ہے تو پھر کھانا جائز نہیں ہے، اور اگر اس آدمی کے کوئی حلال آمدن ہو اور اس سے کھلا رہا ہے تو پھر ان کے ہاں دعوت کھانا درست ہے۔
1)أحكام القرآن للجصاص میں ہے:
"قال الله تعالى: {إنما الصدقات للفقراء} إلى قوله: {وفي الرقاب} وعتق الرقبة لا يسمى صدقة، وما أعطي في ثمن الرقبة فليس بصدقة لأن بائعها أخذه ثمنا لعبده فلم تحصل بعتق الرقبة صدقة، والله تعالى إنما جعل الصدقات في الرقاب فما ليس بصدقة فهو غير مجزئ. وأيضا فإن الصدقة تقتضي تمليكا والعبد لم يملك شيئا بالعتق، وإنما سقط عن رقبته، وهو ملك للمولى، ولم يحصل ذلك الرق للعبد لأنه لو حصل له لوجب أن يقوم فيه مقام المولى فيتصرف في رقبته كما يتصرف المولى، فثبت أن الذي حصل للعبد إنما هو سقوط ملك المولى، وأنه لم يملك بذلك شيئا، فلا يجوز أن يكون ذلك مجزيا من الصدقة إذ شرط الصدقة وقوع الملك للمتصدق عليه."
(سورة براءة، ج:3، ص:161، ط :دار الكتب العلمية)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"{وآتوا الزكاة} والإيتاء هو التمليك؛ ولذا سمى الله تعالى الزكاة صدقة بقوله عز وجل {إنما الصدقات للفقراء} [التوبة: 60] والتصدق تمليك..وعلى هذا يخرج صرف الزكاة إلى وجوه البر من بناء المساجد، والرباطات والسقايات، وإصلاح القناطر، وتكفين الموتى ودفنهم أنه لا يجوز؛ لأنه لم يوجد التمليك أصلا."
(كتاب الزكاة، فصل ركن الزكاة، ج:2، ص:39، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وأما إذا كان حراما جمع بباطل لم يحل أخذه لأن سبيل الحرام والغصب رده على أهله وليس ذلك بمال عامة المسلمين اهـ.
أقول: ظاهر العلة أن أهله معلومون فحرمة الأخذ منه ظاهرة، فإن لم يعلموا فهو كاللقطة يوضع في بيت المال، ويصرف في مصارف اللقطة فقد صرحوا في الهدية والرشوة للقضاة ونحوهم أنها ترد على أربابها إن علموا وإلا أو كانوا بعيدا حتى تعذر الرد ففي بيت المال فيكون حكمه حكم اللقطة كما تقدم في كتاب القضاء تأمل."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع ، ج:6، ص:389، ط:سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"رجل اشترى أمة بيعا فاسدا وقبضها فباعها ثم قضى عليه القاضي بالقيمة للبائع الأول فأداها إليه ورده البائع الأول من الثمن وفي الثمن الثاني فضل على القيمة التي أداها فإنه يتصدق بذلك الفضل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - وإنما طاب للمساكين على قياس اللقطة قال وهذا الربح لا يطيب لهذا المشتري، وإن كان فقيرا لأنه يكتسبه بمعصية ويطيب للمساكين وهو أطيب لهم من اللقطة."
(كتاب البيوع، الباب العشرون في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة، ج:3، ص:212، ط:دار الفكر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبى. وفي العمدة: وجد لقطة وعرفها ولم ير ربها فانتفع بها لفقره ثم أيسر يجب عليه أن يتصدق بمثله."
(كتاب اللقطة، ج:4، ص:283، ط:سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(قوله: الضوائع) جمع ضائعة أي اللقطات..وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره."
(كتاب الزكوة ، فروع في زكاة العشر، ج:2، ص:338، ط:سعيد)
جواہر الفقہ میں ہے:
"الغرض ارباح فاسدہ اور اموال حرام جو واجب التصدق ہیں ان کا مصرف لقطہ کی طرح فقراء و مساکین ہیں، بناء مدارس ورباطات اور مصالح مسلمین میں ان کا خرچ کرنا جائز نہیں۔
(۳۲) تصریحات مندرجہ میں واضح ہو گیا کہ مال حرام جس کا صدقہ کرنا واجب قرار دیا جاتا ہے وہ ہر مال حرام نہیں بلکہ صرف وہ مال حرام ہے جس کے مالک نا معلوم یا لا پتہ ہونے کی وجہ سے مالک کو واپس نہیں کیا جا سکتا نیز یہ کہ یہ مال ایسی صورت میں بحکم لقطہ ہو جاتا ہے اور اصل مالک کی طرف سے صدقہ کیا جاتا ہے اس لیے فقراء کو اس کا لینا جائز ہے ان کے لیے یہ مال حرام نہیں اور اسی بناء پر ایسے اموال کا صدقہ اپنے ماں باپ اور اولاد اور بیوی پر بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس کا صدقہ نہیں بلکہ اصل مالک کا ہے کما فی عبارة الهندية " والله تعالى اعلم۔"
(کتاب الزکاۃ، فصل فی مصرف الزکاۃ، اشباع الکلام فی مصرف الصدقۃ، ج:3، ص:330، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
الجواب حامداً ومصلياً:
" محض تو بہ کر لینے سے مال پاک نہیں ہوا، بلکہ وہ کل مال یا اس کی مقدار صدقہ کرنا واجب ہے ، البتہ اگر اسی مال سے زمین خریدی گئی ہے، یا اس سے کوئی جائز تجارت کی جارہی ہے تو اس زمین و تجارت کی آمدنی حلال ہوگی ، اور ان کے یہاں خورد و نوش ، آمد و رفت بھی جائز ہوگی لیکن اس پر ضروری ہوگا کہ جتنے نا جائز روپے اس نے زمین یا تجارت میں لگائے ہیں ، اس مقدار کو صدقہ کر دے، اگر چہ اس کی آمدنی سے ہی ہو: في القنية لو كان الخبيث نصاباً، لا يلزمه الزكوة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه.شامی٣٤/٢(٣) ۔"
(کتاب الحظر و الاباحۃ، باب المال الحرام و مصرفہ، ج:18، ص:416، ط:ادارۃ الفاروق)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے:
بیاج وغیرہ حرام رقوم کا مصرف:
سوال: (۶۷) ایک شخص کے پاس بیان کا روپیہ سے اب اسے کسی مصرف میں خرچ کرے آیا بیان سے تو بہ کرنے کے بعد وہ روپیہ حلال ہو جائے گا؟ مسجد یا مدرس کی تنخواہ یا مسافر کا سفر خرچ وغیرہ میں صرف کرنا کیسا ہے؟ یا بیاج اصل مالک کو دیا جائے ۔ ( ۲۵۰۵ / ۱۳۳۷ )
الجواب : تو بہ کے بعد سود کا روپیہ مالکوں کو یا ان کے رشتہ کو واپس کر دیا جائے ، اور اگر وہ موجود نہ ہوں یا معلوم نہ ہوں تو مساکین پر صدقہ کرنا چاہیے مسجد میں صرف کرنا درست نہیں ہے، اور مدرسہ میں طلبائے مساکین کو دینا بھی درست ہے ، مدرسین کی تنخواہ میں دینا درست نہیں ہے، مسافر اگر محتاج ہے تو اس کو بھی دینا درست ہے۔"
(کتاب البیوع، فصل سود قمار اور بیمہ کا بیان، ج:14، ص:494، ط:دار الاشاعت)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق."
(كتاب الغصب ،ج:3، ص:61، ط:دارالفكر)
فتاوٰی شامی میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه...ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله."
(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام."
(باب المتفرقات من أبوابها، مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه،ج:5، ص:235، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا تصرف في المغصوب وربح فهو على وجوه إما أن يكون يتعين بالتعيين كالعروض أو لا يتعين كالنقدين فإن كان مما يتعين لا يحل له التناول منه قبل ضمان القيمة وبعده يحل إلا فيما زاد على قدر القيمة وهو الربح فإنه لا يطيب له ولا يتصدق به وإن كان مما لا يتعين فقد قال الكرخي: إنه على أربعة أوجه إما إن أشار إليه ونقد منه أو أشار إليه ونقد من غيره أو أطلق إطلاقا ونقد منه أو أشار إلى غيره ونقد منه وفي كل ذلك يطيب له إلا في الوجه الأول وهو ما أشار إليه ونقد منه قال مشايخنا لا يطيب له بكل حال أن يتناول منه قبل أن يضمنه وبعد الضمان لا يطيب الربح بكل حال وهو المختار والجواب في الجامعين والمضاربة يدل على ذلك واختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام."
(كتاب الغصب، الباب الثامن فى تملك الغاصب والانتفاع به، ج:5، ص:141، ط:دار الفکر)
فتح القدير للكمال میں ہے :
"(قوله ومن اشترى جارية بيعا فاسدا وتقابضا فباعها) المشتري (وربح فيها تصدق بالربح ويطيب لبائعه ما ربح في الثمن) الذي قبضه من المشتري إذا عمل فربح، والأصل في هذا أن المال نوعان: نوع لا يتعين في عقود المعاوضات كالدراهم والدنانير، ونوع يتعين وهو ما سواهما.
والخبث نوعان: خبث في البدل لعدم الملك في المبدل، وخبث لفساد الملك. فالخبث لعدم الملك يعمل في النوعين حتى أن الغاصب أو المودع إذا تصرفا في المغصوب الوديعة وهما عرض أو نقد وأديا ضمانهما وفضل ربح وجب التصدق به عند أبي حنيفة ومحمد؛ لأنه بدل مال الغير فيما يتعين فيثبت فيه حقيقة الخبث، وفيما لا يتعين إن لم يكن ما اشتراه به بدل مال الغير؛ لأن العقد لا يتعلق به بل بمثله في الذمة، لكنه إنما توسل إلى الربح بالمغصوب أو الوديعة فتمكن فيه شبهة الربح بمال الغير من حيث إنه يتعلق به سلامة المبيع أن نقد الدراهم المغصوبة أو تقدير الثمن إن أشار إلى الدراهم المغصوبة ونقد من غيرها فيتصدق به؛ لأن الشبهة معتبرة كالحقيقة في أبواب الربا، والخبث لفساد الملك دون الخبث لعدم الملك فيوجب شبهة الخبث فيما يوجب فيه عدم الملك حقيقة الخبث، وهو ما يتعين كالجارية في مسألتنا ويتعدى إلى بدلها.
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، فصل: في أحكامه ج:6، ص:473، ط:دار الفكر، لبنان)
2)فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: كما لو كان الكل خبيثًا) في القنية: لو كان الخبيث نصابًا لايلزمه الزكاة؛ لأنّ الكل واجب التصدق عليه فلايفيد إيجاب التصدق ببعضه. اهـ.ومثله في البزازية".
(کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج:2، ص:291، ط: سعيد)
3)فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه، إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس، إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لايقبل الهدية ولايأكل الطعام، إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع ۔ ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور ؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال، بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به ؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام، فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم."
(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:342، ط:دار الفكر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ما يأخذه من المال ظلما ويخلطه بماله وبمال مظلوم آخر يصير ملكا له وينقطع حق الأول فلا يكون أخذه عندنا حراما محضا، نعم لا يباح الانتفاع به قبل أداء البدل في الصحيح من المذهب."
(کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج:2، ص:292، ط: سعيد)
الهداية في شرح بداية المبتدي میں ہے:
أما فيما لا يتعين كالثمنين فقوله في الكتاب اشترى بها إشارة إلى أن التصدق إنما يجب إذا اشترى بها ونقد منها الثمن. أما إذا أشار إليها ونقد من غيرها أو نقد منها وأشار إلى غيرها أو أطلق إطلاقا ونقد منها يطيب له، وهكذا قال الكرخي؛ لأن الإشارة إذا كانت لا تفيد التعيين لا بد أن يتأكد بالنقد ليتحقق الخبث. وقال بعض مشايخنا رحمهم الله: لا يطيب له قبل أن يضمن، وكذا بعد الضمان بكل حال، وهو المختار لإطلاق الجواب في الجامعين والمبسوط. قال: "وإن اشترى بالألف جارية تساوي ألفين فوهبها أو طعاما فأكله لم يتصدق بشيء"، وهذا قولهم جميعا؛ لأن الربح إنما يتبين عند اتحاد الجنس. والله سبحانه تعالى أعلم.
(كتاب الغصب، ج:4، ص:298، ط:دار احياء التراث العربي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم،وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 385، ط:سعيد)
بذل المجہودميں ہے:
"فالحاصل أن التصدق من مال حرام غير مقبول، حتى قال بعض علمائنا: من تصدق بمال حرام يرجو الثواب كفر.قلت: فإن قيل: صرح الفقهاء بأن من اكتسب مالاً بغير حق، فإما أن يكون كسبه بعقد فاسد، كالبيوع الفاسدة والاستئجار على المعاصي والطاعات، أو بغير عقد، كالسرقة والغصب والخيانة والغلول، ففي جميع الأحوال المال الحاصل له حرام عليه، ولكن إن أخذه من غير عقد ولم يملكه يجب عليه أن يرده على مالكه إن وجد المالك، وإلَّا ففي جميع الصور يجب عليه أن يتصدق بمثل تلك الأموال على الفقراء، فهذا القول منهم يخالف الحديث المذكور، فإن الحديث دال على حرمة التصدق بالمال الخبيث، وقد نص الله تعالى في كتابه: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} الآية، وقولهم بوجوب التصدق معارض بالحديث والآية، فما وجه التوفيق بينهما؟
قلنا: الآية والحديث يدلان على حرمة التصدق بالمال الحرام لأجل تحصيل الأجر والثواب، وقد أشير إليه في الحديث بقوله: "لا يقبل الله" فإذا تصدق بالمال الحرام يريد القبول والأجر يحرم عليه ذلك، وأما إذا كان عند رجل مال خبيث، فإما إن ملكه بعقد فاسد، أو حصل له بغير عقد، ولا يمكنه أن يردّه إلى مالكه، ويريد أن يدفع مظلمته عن نفسه، فليس له حيلة إلَّا أن يدفعه إلى الفقراء, لأنه لو أنفق على نفسه فقد استحكم ما ارتكبه من الفعل الحرام."
(کتاب الطهارۃ، باب فرض الوضوء:ج:1ص:359: تحت رقم الحدیث:59:ط:بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه لأنه يملك بالقبض ... (قوله فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه إلخ) يعني وإنما يجب رد ضمانه لو استهلكه، وفي التفريع خفاء، لأن المذكور قبله أن البيع الفاسد من جملة الربا، وإنما يظهر لو ذكر قبله أن الربا من جملة البيع الفاسد، لأن حكم البيع الفاسد أنه يملك بالقبض ويجب رده لو قائما ورد مثله أو قيمته لو مستهلكا."
(کتاب البیوع،باب الربا، ج:5، ص:169، ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144506101887
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن