بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام اشیاء کی ڈلیوری کرنے کا شرعی حکم


سوال

میں ایک ایسی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں جہاں مختلف گاہکوں کے آرڈرز اُن کے گھروں یا مقررہ مقامات تک پہنچانے کی ذمہ داری میری ہوتی ہے۔ ان آرڈرز میں بعض اوقات شراب اور خنزیر کے گوشت جیسی حرام اشیاء بھی شامل ہوتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں میرے لیے ان حرام چیزوں کو پہنچانے کا شرعی حکم کیا ؟

جواب

واضح رہے کہ حرام کام میں کسی بھی قسم کا تعاون کرنا بھی گناہ کا باعث ہے۔ یہاں تک کہ احادیثِ مبارکہ میں شراب کے متعلق یہ ذکر آیا ہے کہ پینے والے کے ساتھ ساتھ پلانے والے، بنانے والے، اٹھانے والے اور پہنچانے والے سب پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔لہٰذا حرام اشیاء کی ڈیلیوری کرنا جائز نہیں ہے۔ تاہم اگر فوڈ ڈیلیوری کے کام میں زیادہ تر حلال اشیاء لوگوں تک پہنچانا مقصود ہو تو ایسی صورت میں یہ کام  جائز ہوگا۔

البتہ اگر کبھی کبھار حرام اشیاء کی ڈیلیوری بھی کرنی پڑتی ہو تو سب سے پہلے مکمل طور پر حلال متبادل روزگار تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو جس ادارے سے آپ وابستہ ہیں، اس کی انتظامیہ سے درخواست کریں کہ آپ مسلمان ہیں اور آپ کے لیے حرام اشیاء کی ڈیلیوری ممکن نہیں، اس لیے ایسے آرڈرز آپ کے سپرد نہ کیے جائیں۔

اور جب تک یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں، تب تک توبہ و استغفار کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں، اور حرام اشیاء کی ڈیلیوری کے عوض جو رقم حاصل ہو اسے بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دیں۔ البتہ جو آمدنی حلال اشیاء کی ڈیلیوری کے بدلے حاصل ہو، اس کا استعمال بالکل جائز ہے۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

 "قوله تعالى{وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

 (ج: 2 ،ص: 214، ط: دار الكتب العلمية،بيروت)

سنن ترمذی میں ہے :

"حدثنا عبد الله بن منير قال سمعت أبا عاصم عن شبيب بن بشر عن أنس بن مالك قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الخمر عشرة: عاصرها ومتعصرها وشاربها وحاملها والمحمولة إليه وساقيها وبائعها وآكل ثمنها والمشتري لها والمشتراة له."

(باب النهي ان يتخذ الخمر خلا، ج: 3،ص: 581، رقم الحديث: 1295، ط: شركة مكتبة و مطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر )

فتاوی شامی میں ہے :

"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى الخ."

(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ص:583، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101170

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں