
مجھے ایک شخص نے دو ہزار روپے بطور ھدیہ دئیے ہیں،لیکن اس کی کمائی حرام ہے تو میں اس سے کوئی کھانے پینے کی چیز نہ خریدوں بلکہ بیٹی کے لئے پیمپر خریدوں تو کیا یہ صورت جائز ہے ہا نہیں ؟
1:صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کی آمدنی اگر خالص حرام ہو تو پھر اس کی ہدیہ کی ہوئی رقم قبول کرنااور اس کو اپنے یا اپنی اولاد کی ضروریات میں استعمال کرناجائزنہیں ہے۔
2:اگراس شخص کی آمدنی حلال بھی ہو اور حرام بھی ہو، اور یہ دونوں قسم کی آمدنی اس کے پاس اس طرح مخلوط ہو کہ ایک آمدنی کو دوسری آمدنی سے ممتاز کرنا مشکل ہو، لیکن حلال آمدنی کی مقدار زیادہ ہو اور حرام آمدنی کی مقدار کم ہو تو ایسی صورت میں اس کی ہدیہ کی ہوئی رقم قبول کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اس صورت میں بھی اگر اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
3:اور اگر اس شخص کی آمدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہو لیکن آمدنی کی اکثریت حرام ہو تو اس صورت میں اس کی ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں ہوگا،اور نہ اس ہدیہ کی ہوئی رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔
4:اور اگر اس شخص کی آمدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہو لیکن یہ بالکل پتہ نہ چلتا ہو کہ آمدنی کی اکثریت حلال کی ہے یا اکثریت حرام کی ہے تو اس صورت میں اگر چہ ہدیہ قبول کرنا ناجائز نہیں ہے لیکن احتیاط اس میں ہے کہ ایسے شخص کےہدیہ کو قبول نہ کیا جائے
"المحيط البرهاني" میں ہے:
وفي «عيون المسائل» : رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه".
(المحيط البرهاني، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل السابع عشر فی الھدایا والضیافات، 5 / 367، ط: دارالکتب العلمیہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع".
(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات،5 / 342، ط: رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144602100800
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن