بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

0 محرم 1448ھ 16 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام مال سے رجسٹرڈ فلاحی اداروں کو دی گئی رقم پر ٹیکس ریبیٹ حاصل کرنے کا شرعی حکم


سوال

مجھے ایک مالی اور شرعی معاملے میں رہنمائی درکار ہے۔ پوری صورتِ حال درج ذیل ہے:

میں ایک تنخواہ دار ملازم ہوں، اور ملکی قانون کے مطابق باقاعدگی سے انکم ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ زکوٰۃ اور صدقات اپنی شرعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مستحق افراد کو خود تلاش کر کے ادا کرتا ہوں۔ حکومت کی طرف سے بعض رجسٹرڈ فلاحی اداروں کو دی گئی رقم پر ٹیکس ریبیٹ کی قانونی سہولت موجود ہے۔ گزشتہ سال ایک شخص نے مجھے ایک رقم دی جس کے بارے میں اسے خود بھی معلوم تھا کہ وہ حرام ذریعے سے حاصل ہوئی ہے۔ چونکہ وہ ملک سے باہر تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ میں یہ رقم یہاں خرچ/ڈسپوز کر دوں۔ یہ رقم میری ملکیت نہیں تھی بلکہ اسی شخص کی تھی۔ میں نے وہ پوری رقم بغیر ثواب کی نیت کے ایک رجسٹرڈ فلاحی ادارے کو دے دی تاکہ وہ میرے پاس نہ رہے۔ میں نے ادارے کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ یہ رقم ثواب یا صدقہ کی نیت سے نہیں دی جا رہی بلکہ صرف ڈسپوز کرنے کے لیے ہے۔ ادارے نے اس کی باقاعدہ رسید جاری کی۔ بعد میں میں نے وہی رسید ٹیکس ریبیٹ کے لیے استعمال کی۔ میں نے اپنے ٹیکس گوشوارے میں کوئی غلط یا خلافِ واقع بیان نہیں دیا، صرف اصل رسیدیں جمع کروائیں، اور قانوناً یہ ریبیٹ جائز تھا۔ مزید یہ کہ اس سے زیادہ رقم میں پہلے ہی زکوٰۃ اور صدقات کی صورت میں غیر رجسٹرڈ مستحق افراد کو ادا کر چکا تھا، جس پر کوئی ٹیکس رعایت دستیاب نہیں تھی۔ مزید وضاحت یہ ہے کہ وہ شخص ہر سال کسی سرمایہ کاری کے باعث ایسی آمدن حاصل کرتا ہے (جس کی تفصیلات مجھے معلوم نہیں) اور مجھ سے اسے یہاں خرچ/ڈسپوز کرواتا ہے۔ اس پس منظر میں درج ذیل امور کی وضاحت مطلوب ہے:

1.کیا اس طرح حاصل ہونے والا ٹیکس ریبیٹ شرعاً جائز ہے یا حرام مال شمار ہوگا؟ یا یہ معاملہ صرف جھوٹ یا خلافِ اَولیٰ کے پہلو سے دیکھا جائے گا؟

2.کیا  اس عمل میں کوئی شرعی خرابی، گناہ یا کوتاہی شمار ہوگی؟

3.اگر یہ رقم ناجائز ہو تو اس کا کیا تدارک کیا جائے؟ کیا اسے بھی بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دینا کافی ہوگا؟

4.اگر میں آئندہ اس رقم کو غیر ترقیاتی کاموں (مثلاً واش روم کی تعمیر وغیرہ) میں خرچ کرنے کا ارادہ رکھوں اور ساتھ ہی قانونی طور پر اس کی رسید پر ٹیکس ریبیٹ بھی کلیم کروں، تو کیا یہ طرزِ عمل شرعاً درست ہوگا یا اس سے اجتناب ضروری ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

واضح رہے کہ میں اپنی طرف سے صدقہ و زکوٰۃ اس رقم سے زیادہ ہی ادا کرتا ہوں، تاہم وہ عموماً غیر رجسٹرڈ مستحق افراد یا اداروں کو ہوتی ہے جس پر ٹیکس ریبیٹ دستیاب نہیں ہوتا۔

جواب

واضح رہے کہ حرام مال سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں حرام مال کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ٹیکس ریبیٹ  شرعاً ناجائز ہے، بلکہ یہ طرزِ عمل گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے سائل کو چاہیے کہ اس پر توبہ و استغفار کرے، اور آئندہ اس سے اجتناب کرے۔ نیز اس رسید کی وجہ سے ٹیکس کی مد میں جتنی رقم بچی ہے، اتنی ہی رقم بغیرِ ثواب کی نیت کے کسی مستحقِ زکوٰۃ کو دے دے، تاکہ اس معاملے کا تدارک ہو جائے۔

صحيح البخاري میں ہے:

"عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌الحلال ‌بين ‌والحرام ‌بين، وبينهما مشبهات، لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات كراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب".

(‌‌باب فضل من استبرأ لدينه، ج:1، ص:20، ط: السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)

الأشباه والنظائر میں ہے:

"الحرمة تتعدى في الأموال مع العلم بها، إلا في حق الوارث فإن مال مورثه حلال له وإن علم بحرمته منه، من الخانية، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموالمن قبل يد غيره فسق إلا إذا كان ذا علم وشرف، كذا في مكفرات الظهيرية".

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ص:247، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

حاشیۃ ابن عابدین میں ہے:

"(قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ".

(مطلب رد المشترى فاسدا إلى بائعه فلم يقبله، ج:5، ص:98، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)

مواهب الجليل في شرح مختصر خليل ميں ہے:

"إذا ‌كان ‌الحرام ‌عند ‌آخذه لم يفت رد بعينه إلى ربه ومالكه وسواء كان له مال حلال أو لم يكن يعني للغاصب ولا يحل لأحد أن يشتريه منه إن كان عرضا ولا يبايعه فيه إن كان عينا ولا يأكله إن كان طعاما ولا يقبل منه شيئا هبة ولا يأخذه منه في حق كان له عليه ومن فعل شيئا من ذلك وهو عالم كان سبيله سبيل الغاصب في جميع أحواله".

(تنبيه والغصب بين الكافرين كالغصب بين المسلمين، ج:5، ص:279، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ ‌لأن ‌الكل ‌واجب ‌التصدق ‌عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه. اهـ".

(‌‌باب زكاة الغنم، ج: 2، ص: 291، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)

فقط والله أعلم.


فتویٰ نمبر : 144709100612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں