بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام اور ناجائز کاروبار کے ذریعہ کمایا ہوا مال کیساتھ کیا کیا جائے ؟


سوال

حرام کاروبار میں یا ناجائز کاروبار میں پیسوں  کا لین دین  ہو جانےکے بعد ،كاروباركے مالك  کو معلوم ہو  کہ یہ کام حرام او رناجائز ہےتو پھر  کمائے ہوئے  پیسوں کا کیا کرے ؟  جبکہ اس شخص کو معلوم ہو کہ یہ پیسے فلاں شخص سے میں نے لئے ہیں تو پیسے اسے واپس کرے ؟ یا کہیں اور خرچ کر دے؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کو  اگر معلوم ہو کہ اس نے حرام مال کس سے کمایا ہے،تو  مذکورہ شخص پر کمایا ہوا حرام مال جس سے کمایا تھا  اسے لوٹانا لازم ہوگا، البتہ اگر معلوم ہی نہ ہو ،تو حرام مال ثواب کی نیت کے بغیر غرباء و مساکین میں تقسیم کرنا شرعا ضروری ہوگا، حرام مال اپنے استعمال میں لانا   جائز نہیں ہوگا۔

نیز اگرکوئی  چیز کسی کو شرط فاسد کے ساتھ فروخت کی ہو ، اور وہ چیز خریدار کےپاس بعینہ موجود ہو، تو خریدار و فروخت کنندہ پر سودا ختم کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

(کتاب بیع الفاسد ج : 5 ، ص : 99 : ، ط ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"رجل مات وكسبه من الحرام ينبغي للورثة أن يتعرفوا فإن عرفوا أربابها ردوا عليهم، وإن لم يعرفوا تصدقوا به كذا في فتاوى قاضي خان"

(کتاب بیع الفاسد ج : 3 ، ص : 210، ط : دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں