
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نماز باجماعت پڑھنا چاہ رہا ہوں لیکن نماز باجماعت نہیں پڑھی جارہی ہے، جو اچھا کام کرنا چاہ رہا ہوں وہ بھی نہیں ہوپاتا، میری والدہ میرے لیے رشتہ ڈھونڈ رہی ہیں، لیکن میرا رشتہ بھی نہیں ہورہا ہے، میں اپنی مطلب کی نوکری ڈھونڈنا چاہ رہا ہوں لیکن کبھی وہاں سے جواب نہیں آتا ہے، اور کبھی ٹائمنگ کا مسئلہ آجاتا ہے، برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اور مجھے کوئی وظیفہ بھی بتائیں۔
سائل کو چاہیے کہ سچے دل سے اپنے گناہوں سے توبہ کرے، گناہوں سے اجتناب اور کثرت سے استغفار کرے، اور گھر کو بھی گناہوں کی چیزوں سے پاک کرے، تلاوت قرآن کریم، منزل اور مسنوں دعاؤں کا اہتمام کرے، انشاء اللہ ان اعمال کی بدولت نمازوں اور دیگر نیک اعمال میں دل لگے گا۔
اسی طرح کوشش کرے کہ نمازوں کی باجماعت پڑھنے کی پابندی کرے، اور تہجد کا اہتمام کرے، اور ان نمازوں کے بعد خوب اللہ رب العزت سے حلال اور آسان روزگار اور اچھے نیک رشتہ کے لیے دل سے دعائیں مانگے، اور ہر فرض نماز کے بعد پہلے گیارہ دفعہ درود شریف پڑھیں، پھر سو دفعہ "حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" پڑھیں، پھر گیارہ دفعہ درود شریف پڑھیں، اسی طرح ہر فرض نماز کے بعد مذکورہ وظیفہ کا اہتمام کریں۔
نیز رشتہ کے انتخاب میں دین داری اور کفایت شعاری کو ترجیح دیں، اپنی حیثیت سے اونچا معیار نہ رکھیں، برابری کے خاندان میں سادگی کے ساتھ شرعی احکام کی رعایت رکھ کر نکاح کریں، ان شاء اللہ تمام مراحل آسان ہوجائیں گے۔
بخاری شریف میں ہے:
"عن أبي الضحى عن ابن عباس: حسبنا الله ونعم الوكيل قالها إبراهيم عليه السلام حين ألقي في النار، وقالها محمد صلى الله عليه وسلم حين قالوا: إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم إيمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل."
(کتاب التفسیر، باب إنّ النّاس قد جمعوا لكم، ج: 2، ص: 142، ط: رحمانیة)
مشکوۃ المصابیح میں ہے:
"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يرد القدر إلا الدعاء ولا يزيد في العمر إلا البر وإن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه."
(كتاب الآداب، باب البر و الصلة، ج: 2، ص: 433، ط: رحمانیة)
ترجمہ:
"حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تقدیر کو دعا ہی رد کرسکتی ہے، اور اچھا سلوک عمر میں اضافہ کرتا ہے، اور انسان لاحق ہونے والے گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم ہوجاتا ہے۔"
(مظاہر حق جدید، ج: 4، ص: 527، ط: مکتبۃ العلم)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100747
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن