
ہمارے یہاں مسجد میں ہر جمعہ کو جمعہ کی نماز کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ بقیہ نماز کے بعد قرآن خوانی ہوگی ،البتہ اس قرآن خوانی میں کوئی معاوضہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی قسم کھانے کا نظم ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی شیرینی تقسیم کی جاتی ہے ،محض ایصالِ ثواب کے لئے قرآن پڑھا جاتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے ہر جمعہ کو اعلان کرکے اس طرح مسجد میں اجتماعی قرآن خوانی کرنے کا کیا حکم ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں ثواب اور قربت کی نیت سے قرآن کی تلاوت کے لیے اجتماع کا ثبوت شریعت میں نہیں ہے ،پھر لزوم کا اعتقاد یا شرائط و قیود کا اضافہ ہو تو بدعت ہے،لہذا اس کو لازم سمجھے بغیر احیانا ترک کے ساتھ جاری رکھنے میں مضائقہ نہیں ہے۔
کفایت المفتی میں ہے:
" قرآن مجید افضل الاذکار اور اس کی تلاوت افضل الاشغال ہے اور تلاوت قرآن مجید فرداً فرداً یااتفاقیہ اجتماع کے ساتھ کرنا جائز ہے اور اگر تعلیم قرآن مجید مقصود ہو خواہ الفاظ سکھانا مقصود ہو یا تجوید یا معانی و مطالب قرآنیہ تو اجتماع کا اہتمام کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ روزانہ یا دوسرے روز یا ہفتہ میں ایک بار مثلاً سکھانے والا لوگوں کو جمع کرکے سکھا دیا کرے جیسا کہ سلفاً و خلفاً تعلیم قرآن کی مجالس قائم کرنا مسلمانوں کامعمول ہے ،لیکن اگر تعلیم مقصود نہ ہو بلکہ محض تلاوت بقصد قربت و بہ نیت مثوبت مقصود ہے تو اس کے لئے یہ اہتمام کرنا او ر مجلس منعقد کرنا شریعت سے ثابت نہیں ،پھر اس کے اندر اور شرائط و قیود کا اضافہ بھی ہو تو بدعت ہوجائے گا ،جب کہ مقصود محض تلاوت قرآن مجید کا ثواب حاصل کرنا ہو تو اس کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ تنہااپنے حضور قلب کے اوقات میں جس قدر بخشوع و دل بستگی کرسکے کرلیا کرے کہ یہی طریقہ سلف صالحین یعنی صحابہ کرام اور حضرات تابعین و ائمہ مجتہدین کا طریقہ تھا ،والخیر کلہ فی اتباعھم یعنی بھلائی تمام کی تمام انہیں حضرات کے اتباع میں ہے ۔مجالس الابرار میں ہے:اخبر عبداللہ بن مسعود بالجماعۃ الذین کانوا یجلسون بعد المغرب وفیہم رجل یقول کبروا اللہ کذاوکذا وسبحو االلہ کذاوکذا واحمدوا اللہ کذا وکذا فیفعلون فحضرھم فلما سمع ما یقولون قام فقال انا عبداللہ بن مسعود فوالذی لا الہ غیرہ لقد جئتم ببدعۃ ظلماء اولقد فضلتم أصحاب محمد علیہ اسلام علمایعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خبر دی گئی کہ ایک جماعت ہے جو مغرب کے بعد بیٹھتی ہے اور ان میں ایک شخص ہے جو ان کو تعلیم دیتا ہے کہ اتنی مرتبہ تکبیر کہو اتنی مرتبہ الحمد للہ کہو اتنی مرتبہ سبحان اللہ کہو تو سب ایسا ہی کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود یہ خبر پاکر وہاں تشریف لے گئے اور جب ان لوگوں کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں عبداللہ بن مسعود ہوں اور اس خدا کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں کہ تم لوگوں نے ایک تاریک بدعت اختیار کی ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے علم میں بڑھ گئے ہو انتہی- اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ کوئی کام بظاہر کیسا ہی نیک کام ہو جب تک کہ منہاج سنت پر نہ ہو محبوب و مستحسن و معتبر نہیں۔ہذا واللہ اعلم"
(کتاب الحظر و الاباحۃ، ج:9،ص:54، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100271
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن