
میری بیٹی چاہتی ہے کہ حقِ مہر کے طور پر لڑکا اسے حج کرائے۔ کیا لڑکی حقِ مہر میں حج کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
اور اگر یہ جائز ہے، تو ایجاب و قبول کے وقت خطیب کو کن الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے؟
یعنی لڑکی چاہتی ہے کہ لڑکے سے یوں کہے: "میرا مہر یہ ہوگا کہ آپ مجھے شادی کے بعد حج کرائیں۔
نکاح میں بطورِ مہر یہ شرط رکھنا کہ شوہر بیوی کو حج کرائے، درست نہیں۔ البتہ اگر مہر کے طور پر حج کے اخراجات کی رقم طے کر لی جائے تو یہ جائز ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ بیوی دو افراد کے اوسط درجے کے حج کا خرچ مہر کے طور پر مقرر کرے، اور بعد میں اسی رقم سے میاں بیوی دونوں حج ادا کر لیں۔
البحر الرائق میں ہے:
"وأشار المصنف إلى أنه لو تزوجها على أن يحج بها وجب مهر المثل لكن فرق في الخانية بين أن يتزوجها على أن يحج بها وبين أن يتزوجها على حجة فأوجب في الأول مهر المثل وفي الثاني قيمة حجة وسط."
(کتا ب النکاح، باب المهر، ج : 3، ص : 168، ط : دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701100403
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن