
پھر شادی کے کچھ عرصے بعد میرے شوہر نے مجھ سے ایک کاغذ پر لکھوایا کہ مجھے حق مہر نہیں چاہیے۔ چونکہ اس وقت ہمارے آپس کے تعلقات ٹھیک تھے، اس وجہ سے میں نے بھی اسی کاغذ پر لکھ دیا کہ مجھے حق مہر نہیں چاہیے۔
اب ہمارے تعلقات خراب ہو گئے ہیں اور میں حق مہر کا مطالبہ کر رہی ہوں، لیکن شوہر ادائیگی نہیں کر رہے اور کہہ رہے ہیں کہ پہلے فتویٰ لے کر آؤ، پھر دوں گا۔
2۔میں فیشل کا کام کرتی ہوں اور میرے پاس صرف خواتین آتی ہیں، لیکن شوہر مجھے اس کام سے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں: "اب کام نہیں کرنا، میں ہوں نا!" دراصل مجھے مانگنے کی عادت نہیں ہے، تو کیا اب میں یہ کام کر سکتی ہوں یا نہیں؟
وضاحت:جب ہمارے تعلقات اچھے تھے، تو میری اپنے شوہر سے بات ہوئی۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے ابھی حقِ مہر نہیں چاہیے، البتہ میری خواہش تھی کہ میں اپنے حقِ مہر کی رقم سے اپنی دونوں بیٹیوں کو ان کی شادی کے وقت تحفہ دوں۔ اس پر میرے شوہر نے کہا: "ٹھیک ہے، ابھی اس میں بہت وقت ہے، بعد میں دیکھیں گے۔" پورے معاملے میں میرا مقصد یہ تھا کہ اگر شوہر ہمارے باہمی تعلقات ٹھیک رکھیں تو میں اپنا حقِ مہر معاف کر دوں گی، لیکن اب چونکہ ہمارے تعلقات خراب ہو گئے ہیں، اس لیے میں اپنے حقِ مہر کا مطالبہ کر رہی ہوں۔
نیز جب میں اپنے شوہر سے خرچے کے پیسے مانگتی ہوں، تو ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ: "کیا آپ کو کھانے پینے کو مل نہیں رہا ہے؟ کیا آپ بغیر کپڑوں کے ہیں؟" پھر میں نے کہا: "میرے والد نے نکاح کے وقت جو خرچہ لکھوایا تھا، وہ خرچہ دیں۔" تو انہوں نے کہا: "وہ اس وقت تک تھا جب تک رخصتی نہ ہو۔"
1۔بصدقِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا اپنے شوہر سے یہ کہنا کہ 'مجھے حقِ مہر نہیں چاہیے'، شرعاً مہر سے دستبرداری یا معافی شمار نہیں ہوتا، نيز سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان مہر کے حوالہ سے جو گفتگو ہوئی کہ سائلہ نے شوہر سے کہا کہ: "مجھے ابھی حقِ مہر نہیں چاہیے، البتہ میری خواہش تھی کہ میں اپنے حقِ مہر کی رقم سے اپنی دونوں بیٹیوں کو ان کی شادی کے وقت تحفہ دوں"۔ جس کے جواب میں سائلہ کے شوہر نے کہا کہ: "ٹھیک ہے، ابھی اس میں بہت وقت ہے، بعد میں دیکھیں گے۔" اس گفتگو سے بھی سائلہ کی جانب سے شوہر کو مہر کی ادائیگی سے بری کرنا لازم نہیں آتا، کیونکہ مذکورہ گفتگو سے ظاہر ہے کہ سائلہ کا مقصد صرف مہر کے مطالبے کو مؤخر کرنا تھا، اسے ساقط (معاف) کرنا نہیں تھا، لہٰذا شوہر کے ذمے حقِ مہر بدستور واجب ہے۔
لہذا مسئولہ صورت میں سائلہ مقررہ مہر کے مطالبے کا حق رکھتی ہے، اور شوہر ادائیگی کے بغیر بری الذمہ نہیں ہوگا۔ (1)
2۔ صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر بیوی (سائلہ) کے لیے شرعی نان و نفقہ (رہائش، کھانے پینے اور لباس) کا مناسب انتظام کر رہا ہو، تو شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کسبِ معاش کے کاموں سے روکے۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں اگر فیشل کے کام میں کوئی شرعی خرابی نہ بھی ہو اور اس کے پاس صرف خواتین ہی آتی ہوں، تب بھی اگر شوہر نے اس کام سے منع کر دیا ہے تو سائلہ کے لیے یہ کام کرنا جائز نہیں، بلکہ اس پر شوہر کی اطاعت کرنا لازم ہے۔(2)
اور شوہر پر بھی لازم ہے کہ نکاح کے وقت ماہانہ 25 ہزار روپے خرچہ دینے کا جو معاہدہ ہوا تھا، اس کی پاسداری کرے اور بیوی کو طے شدہ رقم ادا کرتا رہے۔نیز شوہر کے لیے مستحسن اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ واجب نفقہ کے علاوہ بھی اپنی اور اپنی بیوی کی حیثیت کے مطابق کچھ رقم جیب خرچ کے لیے بیوی کو دیتا رہے۔(3)
1۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:
"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج: 1، ص: 303، ط: دار الفكر بيروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان ما يسقط به كل المهر، فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة:..........
ومنها: الإبراء عن كل المهر قبل الدخول وبعده إذا كان المهر دينا لأن الإبراء إسقاط، والإسقاط ممن هو من أهل الإسقاط في محل قابل للسقوط يوجب السقوط."
(كتاب النكاح، فصل بيان ما يسقط به كل المهر، ج: 2، ص: 295، ط: طبعة شركة المطبوعات العلمية بمصر)
دستور العلماء میں ہے:
"البراءة عن دعوى الأعيان صحيحة دون البراءة عن الأعيان. فإنها غير صحيحة. والمراد بصحة الأولى وعدم صحة الثانية أن المدعي لا يصح له أن يدعي بعد البراءة الأولى ولا تسمع دعواه بعدها لأنه أبرأ عن دعواه فلا يسمع. بخلاف البراءة الثانية فإنه لو ادعى بعدها تصح وتسمع فإنها عبارة عن الابراء عن ضمان الأعيان عند هلاكها لا عن البراءة عن دعواها. صورة الأولى أن يقول قد برأت من هذه الدار أو قال قد برأت عن دعوى هذه الدار فهذا جائز حتى لو ادعى بعد ذلك وجاء ببينة لا تقبل. وصورة الثانية أنه قال أبرأتك عن هذه الدار أو قال أبرأتك عن خصومتي في هذه الدار فهذا وأمثاله باطل يعني له أن يخاصم بعد ذلك. ففرق بين قوله برأت وبين قوله أبرأتك فإن الأول براءة عن دعوى الدار والثاني إبراء عن ضمانها فله أن يدعيه بعده فافهم."
(حرف الباء، باب الباء مع الراء، ج: 1، ص: 160، ط: ار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
تاج العروس میں ہے:
"{وأبرأته: جعلته} بريئا من حقي. {وبرأته: صححت} براءته....، {وأبرأته مالي عليه} وبرأته {تبرئة.} وتبرأت من كذا."
(باب الهمزة، فصل الباء الموحدة، برأ، ج: 1، ص: 149، ط: وزارة الإرشاد والأنباء في الكويت)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
" .ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح. ولذا قال في الخلاصة من كتاب الهبة إذا خوف امرأته بضرب حتى وهبت مهرها لا يصح إن كان قادرا على الضرب. اهـ."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج: 3، ص: 161، ط: دار الكتاب الإسلامي)
"وللزوج أن يمنع امرأته عما يوجب خللا في حقه وما فيه أيضا نقلا عن السغناقي؛ ولأنها في الإرضاع والسهر تتعب وذلك ينقص جمالها وجمالها حق الزوج فكان له أن يمنعها تأمل اهـ."
(باب النفقة، نفقة الأمة المنكوحة، ج: 4، ص: 212، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفيه أيضًا:
"له أن يمنع امرأته من الغزل ولا تتطوع للصلاة والصوم بغير إذن الزوج، كذا في الظهيرية وينبغي عدم تخصيص الغزل، بل له أن يمنعها من الأعمال كلها المقتضية للكسب؛ لأنها مستغنية عنه لوجوب كفايتها عليه، وكذا من العمل تبرعا لأجنبي بالأولى."
(باب النفقة، نفقة الأمة المنكوحة، ج: 4، ص: 213، ط: دار الكتاب الإسلامي)
الدر المختار شرح تنوير الأبصار میں ہے:
"وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به، وله منعها من الغزل ومن كل ما يتأذى من رائحته، بل ومن الحناء والنقش إن تأذى برائحته.نهر. وتمامه فيما علقته على الملتقى."
(كتاب النكاح، باب القسم، ص: 201، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)
3۔ قرآنِ کریم میں ہے:
"وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولاً."[سورة الإسراء: 34]
ترجمہ: "اور عہد ( مشروع) کو پورا کیا کرو بے شک (ایسے) عہد کی باز پرس ہونے والی ہے۔"
(تفسیر بیان القرآن،سورۃ الاسراء: 34، ج: 2، ص: 376، ط: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
تفسير روح المعانی میں ہے:
"وأوفوا بالعهد ما عاهدتم الله تعالى عليه من التزام تكاليفه وما عاهدتم عليه غيركم من العباد ويدخل في ذلك العقود. وجوز أن يكون المراد ما عاهدكم الله تعالى عليه وكلفكم به، والإيفاء بالعهد والوفاء به هو القيام بمقتضاه والمحافظة عليه وعدم نقضه واشتقاق ضده وهو الغدر ... ثم إن الإخلال بالوفاء بالعهد على ما تقتضيه الأحاديث الصحيحة قيل كبيرة، وقد جاء عن علي كرم الله تعالى وجهه أنه وعد من الكبائر نكث الصفقة أي الغدر بالمعاهد بل صرح شيخ الإسلام العلائي بأنه جاء في الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه سماه كبيرة."
(سورة الإسراء، الآيات 22-72، ج: 8، ص: 69، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
"بیوی کا یہ بھی حق ہے کہ اس کو کچھ رقم ایسی بھی دو جس کو وہ اپنے جی آئی (مرضی کے مطابق ) خرچ کر سکے جس کو جیب خرچ کہتے ہیں .... اس کی تعداد اپنی اور اپنی بیوی کی حیثیت کے موافق ہو سکتی ہے۔"
(منتخب انمول موتی، جیب خرچ بھی بیوی کا حق ہے، ج: 3، ص: 136، ط: ادارۂ تالیفات اشرفیہ ملتان)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101020
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن