
میری ہمشیرہ کی دس ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔ شادی کی ابتداء ہی سے ساس سسر کے جھگڑے شروع ہو گئے تھے ۔ شوہر کو طبی مسائل تھے ، جس کی وجہ سے میاں بیوی کا تعلق قائم نہیں ہو سکتا تھا۔ اس بیماری کے علاج پر بھی کوئی توجہ نہ دی گئی ۔ بہن کو بھی طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ۔ چار ماہ بعد جب بہن والدین کے گھر آئی تو شوہر کے گھر والوں نے اسے واپس آنے سے منع کر دیا۔ لڑکے والوں کی طرف سے دیے گئے تمام تحائف بھی انہوں نے غصب کر لئے ۔ بہن چھ ماہ سے والدین کے گھر ہے، اس دوران کوئی خرچہ بھی نہیں بھیجا۔ لڑکی کو حق مہر میں سوا تولے کا سونے کا ہار دیا تھا۔ تو اب لڑکے والے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پہلے یہ ہار واپس کرو پھر طلاق دیں گے ۔ لیکن اس ہار سے متعلق لڑکے اور لڑکی کے گھر والوں کے مابین باہمی رضامندی سے یہ طے ہواتھا کہ حق مہر میں یہ سوا تولے کا ہار دیا جائے گا، پھر نکاح کے موقع پر نکاح نامہ میں انہوں نے پچاس ہزار روپے لکھ دیےاور ہار کا سیٹ اسی وقت دے دیا اور کہا کہ ہم نے حق مہرکے طور پر آپ کویہ ہارادا کردیا ہے،نکاح نامہ پر پچاس ہزار لکھنے پر لوگوں نے انہیں ٹوکا تو اس پر لڑکوں والوں نے یہ جواب دیاکہ یہ ہم نے غلطی سے لکھ دیا تھا، حق مہر تو سونے کے سیٹ کے طور پرہم ادا کرچکے ہیں، اب لڑکے والوں کا یہ کہنا ہے کہ مہر پچاس ہزار لکھوایا تھا تو یہ ہار واپس دیا جائے۔پوچھنا یہ ہے کہ:
کیا یہ ہار لڑکی کی ملکیت ہے ؟اگر لڑکی کی ملکیت ہے تولڑکے والوں کا یہ مطالبہ جائز ہے ؟نیز حق مہر جو لکھوایا گیا ہے وہ اصل ہے یا جو اقرارکرکے ادا کیاجاچکاہےوہ اصل ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں جب فریقین کے مابین باہمی رضامندی سے سوا تولہ سونے کا ہار مہر کے طور پر طے ہوا، اور بوقتِ نکاح لڑکے والوں نے باقاعدہ سوا تولے کا ہار مہر کی صراحت کے ساتھ ادا بھی کر دیا، نیز بعد میں خود انہوں نے اعتراف کیا کہ نکاح نامہ میں پچاس ہزار روپے غلطی سے لکھے گئے تھے، تو ایسی صورت میں شرعاً معتبر وہی مہر ہے جو رضامندی کے ساتھ ادا کیا جاچکا ہے،لہذا یہ سوا تولے کا ہار مہر کے طور پر عورت کی ملکیت ہے۔ اب شوہر یا اس کے گھر والوں کا اس ہار کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ ادا شدہ مہر عورت کا خالص حق ہے، شوہر کا اس پر اب کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»."
(باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج:2، ص:889، رقم:2946، ط: المکتب الإسلامي بیروت)
ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:خبردار کسی پرظلم و زیادتی نہ کرو، اچھی طرح سنو!کہ کسی دوسرے شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر لیناحلال نہیں ہے۔"
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج.
وفي الرد: (قوله ويجب الأكثر) أي بالغا ما بلغ فالتقدير بالعشرة لمنع النقصان (قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:102، ط:سعید)
وفیه أیضًا:
"المهر مهر السر، وقيل: العلانية.
وفي الرد: (قوله: المهر مهر السر إلخ) المسألة على وجهين: الأول تواضعا في السر على مهر ثم تعاقدا في العلانية بأكثر والجنس واحد، فإن اتفقا على المواضعة فالمهر مهر السر وإلا فالمسمى في العقد ما لم يبرهن الزوج على أن الزيادة سمعة، وإن اختلف الجنس فإن لم يتفقا على المواضعة فالمهر هو المسمى في العقد."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:161، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى ثم ينظر إن كان المسمى عشرة فصاعدا؛ فليس لها إلا ذلك، وإن كان دون العشرة يكمل عشرة عند أصحابنا الثلاثة وإذا فسدت التسمية أو تزلزلت يجب مهر المثل."
(کتاب النکاح، الباب السابع في المهر، الفصل الأول، ج:1، ص:303، ط:دار الفکر)
البحر الرائق میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، ج:5، ص:44، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101130
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن