بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

حق مہر کی مقدار


سوال

حق مہر کتنا ہونا چاہیے؟

جواب

مہر کی مقدار کے اعتبار سے چار صورتیں ہیں:

(1) اقلِّ مہر: مہر کی کم از کم مقدار شرعاً دس درہم مقرر ہے، اس کا وزن 2 تولہ - ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے، اور موجودہ اوزان کےحساب سے اس کی مقدار 30 گرام 618  ملی گرام چاندی ہوتی ہے، (اور آج یکم محرم الحرام 1448 کے ریٹ کے حساب سے  اس کی قیمت تقریبا 18،000  بنتی ہے۔)اس سے کم مہر مقرر کرنا درست نہیں، تاہم مہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔

(2) مہر مثل: لڑکی کے باپ کے خاندان کی وہ لڑکیاں جو مال، جمال، دین، عمر، عقل، زمانہ، شہر، باکرہ یا ثیبہ وغیرہ ہونے میں اس کے برابر ہوں، ان کا جتنا مہر تھا اس جتنا مہر، مہر مثل ہے، اتنا مہر عورت کا حق ہے، اگر نکاح میں مہر متعین نہ ہو تب بھی مہر مثل ہی لازم ہوتا ہے۔

(3) مہر مسمّیٰ: فریقین باہمی رضامندی سے مہرِ مثل سے کم یا زیادہ جو مہر مقرر کریں بشرط یہ کہ وہ دس درہم سے کم نہ ہو، اس کو ”مہرِ مسمی“ کہتے ہیں، نکاح کے وقت فریقین جو مہر باہمی رضامندی سے طے کریں اسی کی ادائیگی شوہر پر لازم ہوتی ہے۔

(4) مہر فاطمی: مہر کی وہ مقدار ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اوردیگر صاحبزادیوں اور اکثر ازواجِ مطہرات کے لیے مقرر فرمائی تھی، مہر فاطمی کی مقدار پانچ سو درھم چاندی بنتی ہے، موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی ہے، اور گرام کے حساب سے 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔ 

 نکاح کے وقت ان میں کوئی بھی مہر طے کیا جاسکتا ہے، البتہ مہر فاطمی مقرر کرنا بہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(أقله عشرة دراهم) لحديث البيهقي وغيره "لا مهر أقل من عشرة دراهم ورواية الأقل تحمل على المعجل (فضة وزن سبعة) مثاقيل كما في الزكاة (مضروبة كانت أو لا)".

(کتاب النکاح، باب المہر، ج:3 ،ص:101، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101349

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں