
میری بیوی كے ماموں نے میرے بچوں كو اپنے پاس ركھ لیا ہے، اور مجھے واپس نہیں دے رہے ہیں اور ملاقات بھی نہیں كرواتے ہیں۔ میری رہائش شہر میں ہے اور انہوں نے میرے بچوں كو گاؤں میں ركھا ہوا ہے، اور گاؤں میں ہمیشہ جھگڑے رہتے ہیں۔ میری بیوی كا كوئی بھائی نہیں ہے اور اس كے والد بھی فوت ہو چكے ہیں۔ وہ لوگ عصری تعلیم كے بالكل مخالف ہیں، میں اپنے بچوں كے مستقبل، تربیت و صحت كے حوالے سے بہت پریشان ہوں۔ میرے بچے شہری ہیں، وہاں ان كو كون گھمائے گا پھرائے گا، وہاں كوئی پارك وغیرہ نہیں ہے۔ میرا ایك بیٹا آٹھ سال كا ہے اور ایك بیٹی نو سال كی ہے۔
اب سوال یہ ہے كہ كیا بچوں كی تربیت كا حق مجھے حاصل نہیں ہے؟ اور كب تك باپ كو اپنے بچوں كی تربیت كا حق حاصل ہوتا ہے؟
واضح رہے كہ شریعتِ مطہرہ نے لڑكے كے لیے سات سال اور لڑكی كے لیے نو سال كی عمر تك ماں كو حقِ پرورش دیا ہے، اس كے بعد باپ كو حقِ پرورش منتقل ہو جاتا ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں بیٹے اور بیٹی دونوں كی پرورش كا حق سائل كو حاصل ہے۔ البتہ یہ ملحوظ رہے كہ والدین میں سے جس كے پاس بچے ہوں اسے دوسرے سے بچوں كو نہ ملنے دینے كا كوئی حق نہیں ہے۔ نیز بلوغت كے بعد بچوں كو والدین كے پاس رہنے میں بھی اختیار حاصل ہو جاتا ہے كہ جب جس كے پاس چاہیں رہ سكتے ہیں۔
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله وبها حتى تحيض) أي: الأم والجدة أحق بالصغيرة حتى تحيض؛ لأن بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ والأب فيه أقوى وأهدى وبه علم أنه لو قال حتى تبلغ لكان أولى وعن محمد أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلى الصيانة قال في النقاية وهو المعتبر لفساد الزمان.... وقدره أبو الليث بتسع سنين وعليه الفتوى."
(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 4، ص: 184، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وفي الحاوي: له إخراجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها كل يوم كما في جانبها فليحفظ. قلت: وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الأم وأخذه الأب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك.
"ويؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم. (قوله: لا يجبر على أن يرسله) وكذا يقال في جانبها وقت حضانتها ط."
(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 571، ط: حلبی)
و فیہ ایضاً:
"(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية."
(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص: 567، ط:حلبی)
فقط وألله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100613
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن