
میرے بھائی کی شادی کے موقع پر میرے والد صاحب نے ان کی اہلیہ کے لیے دو تولہ سونا اور ایک کمرہ بطورِ ملکیت دیا تھا۔ اب میرے والد صاحب، میرے بھائی اور بھابھی سب کا انتقال ہو چکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایک کمرہ جو بطورِ ملکیت بھابھی کو دیا گیا تھا، اور وہ اس میں رہائش پذیر بھی تھیں، بعد میں میرے بھائی نے دوسرا مکان خریدا، اور وہ اس میں منتقل بھی ہو گئے، لیکن انہوں نے اس کمرے سے، جو ان کی بیوی کو بطورِ حق مہر دیا گیا تھا، دستبرداری نہیں کی، بلکہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ یہ میری بیوی کا حق ہے۔
تو کیا ان کے انتقال کے بعد ان کی اولاد کا اس کمرے میں حق ہوگا؟ کیا یہ کمرہ بطورِ میراث ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں، جبکہ سائل کے والد صاحب نے سائل کی بھابی کو شادی کے موقع پر ایک کمرہ بطورِ ملکیت دے دیا تھا اور حوالہ بھی کر دیا تھا، تو وہ کمرہ بھابی کی ملکیت میں آگیا۔ اب جب بھابی کا انتقال ہوگیا تو وہ کمرہ ان کے ترکے میں شامل ہوگا، اگرچہ بھابھی بعد میں رہائش کے لیے کسی اور جگہ منتقل ہوگئی تھیں ۔
لہذااس کمرے کی قیمت بھابی کے شرعی ورثاء میں ان کے حصصِ شرعیہ کے تناسب سے تقسیم ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"تركة الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية."
(کتاب الفرائض، ج:6، ص:759، ط: سعید)
الاختيار لتعليل المختار میں ہے:
"وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهم ذوي الفروض، وإذا انفرد أخذ جميع المال.(وهم نوعان: عصبة بالنسب وعصبة بالسبب) . أما النسبية فثلاثة أنواع: عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وأقربهم جزء الميت وهم بنوه، قال - تعالى -: {ولأبويه لكل واحد منهما السدس مما ترك إن كان له ولد} [النساء: 11] قدم الابن في التعصيب على الأب فيكون مقدما على من بعده بطريق الأولى. (ثم بنوهم وإن سفلوا) لدخولهم في اسم الولد."
(کتاب الفرائض، باب فی العصبات، ج:5، ص:92، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100450
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن