بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 صفر 1448ھ 07 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

حقِ مہر کی ادائیگی کا حکم


سوال

میرے چھوٹے بھائی کی تقریبا ایک سال پہلے شادی ہوئی اور رخصتی بھی ہو گئی تھی، پھر اسے پتہ چلا کہ اس کی اہلیہ کا کسی اور شخص سے رابطہ اور ملنا جلنا ہے، تو میرے بھائی نے اسے تین طلاقیں دے دیں، تو کیا اب میرے بھائی کو حقِ مہر دینا لازم ہو گا؟ میرے بھائی کا کہنا ہے کہ چونکہ میں اسے طلاق نہیں دینا چاہتا تھا، اس کے برے اعمال کی وجہ سے میں نے طلاق دی ہے، تو اب مجھے مہر کی ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی، مہر میں دو تولہ سونا مقرر کیا تھا، پھر شادی کے موقع پر دے دیا تھا، اب روکا ہوا ہے کہ میں نہیں دوں گا۔

وضاحت: طلاق کے وقت حقِ مہر سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق دیتے وقت حقِ مہر نہ دینے سے متعلق چونکہ کوئی بات طے نہیں کی گئی تھی، تو چونکہ رخصتی ہو چکی تھی، اس لیے حقِ مہر مطلقہ کا حق ہے، جو کہ ادا کرنا سائل کے بھائی پر لازم ہے، اگرچہ قصور مطلقہ کا ہو۔

چنانچہ قرآن کریم میں ارشادِباری تعالیٰ ہے:

"وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ."(سورۃ النساء:4)

ترجمہ: "اوردے دو عورتوں کواُن کے مہرخوشی سے "۔

اس آیتِ کریمہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مہر عورت کاحق ہے اور شوہرپراس کی ادائیگی واجب ہے،جس طرح دیگرحقوقِ واجبہ کوخوش دلی کے ساتھ اداکرناضروری ہے ، اسی طرح مہرکوبھی خوش دلی کے ساتھ اداکرنالازم ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وروي عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم، أنه قال من کشف خمار امرأته ونظر إلیها وجب الصداق دخل بها، أو لم یدخل وهذا نص في الباب".

( کتاب النکاح، فصل و أما بیان مایتأکد به المهر، ۲/۲۹۲، ط: دار الكتب العلمية)

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"و الدليل عليه أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، و لاتحبس المبدل إلا ببدل واجب و إن بعد الدخول بها يجب. و لا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن."

(كتاب النكاح، باب المهور،5 / 63، ط: بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."

(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج: 1، صفحه: 304، ط: دارالفکر)

فقط و الله اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں