بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے بعد والدین کے حقوق: شرعی حیثیت، دائرہ ترجیح اور توازنِ حقوق کی توضیح


سوال

1)والد اگر اپنی  اولاد کی شادی کرادے،تو اس کے بعد والد کا اپنے بچوں پر کتنا حق ہوتا ہے؟

2)شادی کے بعد والدین کے حقوق زیادہ ہوتے ہیں یا بیوی بچوں کے؟

3)شادی کے بعد بچوں کا یہ کہنا کہ اب نان ونفقہ  کے اعتبار سے زیادہ حقوق بیوی بچوں کے ہیں،پھر اس کے بعد اگر کچھ حقوق بنتے ہیں تو وہ والدین کے ہیں،آیا یہ کہنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

1۔واضح رہے کہ والد کا اپنی اولاد کی شادی کرانا ایک احسانِ جمیل اور فطری ذمہ داری ہے، لیکن یہ احسان والدین کا وہ دائمی اور واجب الحقوق مقام و مرتبہ ختم نہیں کرتا جو شریعت نے ان کو عطا کیا ہے، شادی کے بعد بھی اولاد پر والدین کی اطاعت (اگر گناہ کا حکم نہ ہو)، خدمت، ادب، دعاء اور مالی اعانت (اگر والدین محتاج ہوں) بدستور لازم رہتی ہے۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَقَضىٰ رَبُّكَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ وَبِالوالِدَينِ إِحسانًا﴾ (الإسراء: الآیة  :23)
ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔

2۔بیوی بچوں اور والدین دونوں کے حقوق واجب ہیں، مگر ہر ایک کا دائرۂ حق مختلف ہے، اور شرعی ترجیح کا مدار اسی دائرے پر ہے۔
بیوی بچوں کا نان و نفقہ، رہائش اور کفالت شوہر پر فرضِ عین ہے، کیونکہ وہ اس کے زیرِ کفالت ہیں، والدین کی خدمت، اطاعت، تعظیم اور مالی اعانت (اگر محتاج ہوں) اولاد پر واجب ہے۔

مالی کفالت (نان و نفقہ) کے اعتبار سے بیوی بچوں کا حق مقدم ہے،جبکہ  احترام، اطاعت اور خدمت کے باب میں والدین کا درجہ فائق اور اعلیٰ ہے۔

3۔یہ کہنا کہ بیوی بچوں کے نان و نفقہ کے بعد ہی والدین کے حقوق کی باری آتی ہے،اگر اس سے مالی ترجیح مراد ہو، اور والدین خودکفیل ہوں، تو ایک حد تک درست ہے، لیکن اگر اس تعبیر سے والدین کی اہمیت گھٹائی جائے، ان کی خدمت کو نظر انداز کیا جائے، یا انہیں بوجھ تصور کیا جائے، تو یہ شرعاً غلط، اخلاقاً قبیح اور دینداری کے خلاف طرزِ فکر ہے۔

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا يحيى، حدثنا عبيد الله بن الأخنس، حدثني عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: أتى أعرابي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إن أبي يريد أن يجتاح مالي؟ قال: " أنت ومالك لوالدك، إن أطيب ماأكلتم من كسبكم، وإن أموال أولادكم من كسبكم، فكلوه هنيئا "

‌‌(مسند عبداللہ ا بن عمرو،ج :11،ص :261،رقم الحدیث :6678،ط :مؤسسة  الرسالة)

ترجمہ: تو اور تیرا مال تیرے والد ہی کا ہے۔

مسلم شریف میں ہے:

"حدثنا شيبان بن فروخ. حدثنا أبو عوانة عن سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة،عن النبي صلى الله عليه وسلم. قال "رغم أنف، ثم رغم أنف، ثم رغم أنف" قيل: من؟ يا رسول الله! قال "من أدرك أبويه عند الكبر، أحدهما أو كليهما فلم يدخل الجنة".

(کتاب البر والصلة،ج :4،ص :1978،رقم الحدیث :2551،ط :دارإحیاءالتراث العربی)

ترجمہ: اس کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت نہ کما سکا۔

لہذا شادی کے بعد بھی والدین کے حقوق تاحیات قائم رہتے ہیں، اور ان کی تعظیم و خدمت شرعاً بدستور واجب ہے،بیوی بچوں کی کفالت کا حق مقدم ہے، لیکن والدین کی خدمت اور احترام کو پسِ پشت ڈالنا جائز نہیں، ہر صاحبِ حق کو اس کا حق ادا کرنا عدل، دینداری اور شریعت کا تقاضا ہے۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا خلاف في وجوب النفقة في قرابة الولادة وأما نفقة الوالدين فلقوله عز وجل {وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا} [الإسراء: 23] أي: أمر ربك وقضى أن لا تعبدوا إلا إياه.

أمر سبحانه وتعالى ووصى بالوالدين إحسانا، والإنفاق عليهما حال فقرهما من أحسن الإحسان وقوله عز وجل {ووصينا الإنسان بوالديه حسنا} [العنكبوت: 8] وقوله تعالى {أن اشكر لي ولوالديك} [لقمان: 14] والشكر للوالدين هو المكافأة لهما أمر سبحانه وتعالى الولد أن يكافئ لهما ويجازي بعض ما كان منهما إليه من التربية والبر والعطف عليه والوقاية من كل شر ومكروه وذلك عند عجزهما عن القيام بأمر أنفسهما والحوائج لهما وإدرار النفقة عليهما حال عجزهما وحاجتهما من باب شكر النعمة فكان واجبا وقوله عز وجل {وصاحبهما في الدنيا معروفا} [لقمان: 15] وهذا في الوالدين الكافرين فالمسلمان أولى والإنفاق عليهما عند الحاجة من أعرف المعروف وقوله عز وجل {فلا تقل لهما أف ولا تنهرهما} [الإسراء: 23] وأنه كناية عن كلام فيه ضرب إيذاء، ومعلوم أن معنى التأذي بترك الإنفاق عليهما عند عجزهما وقدرة الولد أكثر فكان النهي عن التأفيف نهيا عن ترك الإنفاق دلالة، كما كان نهيا عن الشتم والضرب دلالة.

وأما سبب وجوب هذه النفقة أما نفقة الولادة فسبب وجوبها هو الولادة؛ لأن به تثبت الجزئية والبعضية والإنفاق على المحتاج إحياء له ويجب على الإنسان إحياء كله وجزئه وإن شئت قلت: سبب نفقة الأقارب في الولادة وغيرها من الرحم المحرم هو القرابة المحرمة للقطع؛ لأنه إذا حرم قطعها يحرم كل سبب مفض إلى القطع.

وترك الإنفاق من ذي الرحم المحرم مع قدرته وحاجة المنفق عليه تفضي إلى قطع الرحم فيحرم الترك وإذا حرم الترك؛ وجب الفعل ضرورة "

(کتاب النفقة،ج :4،ص :30،ط :دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100562

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں