
اگر مجبوری کے تحت (نہایت مجبوری میں) ایک مسئلے میں شافعی مسلک کو مان لیا جائے،اور شافعی مسلک میں اس مسئلے کی اجازت ہو،جب کہ حنفی مسلک میں اجازت نہ ہو،اور حنفی مسلک میں اس مسئلے کو اپنانے میں شدید نقصان کا اندیشہ ہو ،اور دنیا آخرت دونوں کے نقصان کی مکمل امید ہو، تو پھر امام شافعی کے مسئلے پہ عمل کرکے دنیا وآخرت کی فلاح کے لیے عمل کیا جائے، تو کیا یہ شحص گناہ گار ہوگا یا اس پر عمل کر سکتا ہے؟لیکن عزت سو فیصد موجود ہو۔
واضح رہے کہ حنفی مسلک کے ساتھ وابستگی کے بعد انتہائی ناگزیر صورت حال کے علاوہ، شافعی مسلک کی تشریح کے مطابق عمل کرنا درست نہیں، اس میں کئی ایک مصلحتیں ہیں، جن کا تفصیلی بیان یہاں ممکن نہیں ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ نے اپنے مسئلے کی وضاحت نہیں کی ہے کہ جس سے یہ آپ کی ضرورت شدیدہ معلوم ہو سکے اور حتمی فتوی دیا جائے، اس لیے آپ اپنا مسئلہ وضاحت کے ساتھ لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کر کے اس کےمتعلق پوچھ لیں کہ آپ اس مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے مسلک پر عمل کر سکتے ہیں یا نہیں؟تو ان شاء اللہ وضاحت کے ساتھ جواب دے دیا جائے گا۔ ہر شخص اپنی رائے پر عمل نہیں کرسکتا۔
حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:
"إن هذه المذاهب الأربعة المدونة المحررۃ قد اجتمعت الأمة، أو من یعتد به منها علی جواز تقلیدها إلی یومنا هذا، وفي ذلک من المصالح مالا یخفی، لا سیما في هذہ الأیام التي قصرت فيها الهمم جدا واشربت النفوس الهوی، وأعجب کل ذی رأي برأيه."
(حجة اللہ البالغة، ج:1، ص:154، ط: مکتبه حجاز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102257
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن