
میں نے غصہ میں آکر اپنی بیوی سے کہا: طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، میری بیوی حاملہ ہے، اور یہ الفاظ کہتے وقت میں نے بیوی کا نام نہیں لیا، ہم دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں ر ہ سکتے ، سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ حمل کی حالت میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے غصہ میں اپنی بیوی کو یہ کہا کہ : ”طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے“ تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، اگر چہ اس وقت سائل نے بیوی کا نام نہیں لیا تھا۔
لہذا سائل کی بیوی، اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب شوہر (سائل ) کے لیے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔مطلقہ چوں کہ حاملہ ہے، اس لیے اس کی عدت وضع ِ حمل ہے،لہذا بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی عدت ختم ہوجائے گی، عدت گزار کر دوسری جگہ شرعاً نکاح کرسکتی ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق،فصل في حكم الطلاق البائن، 3 /187، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی العدۃ، 1 / 528، ط: رشیدیة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100628
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن