بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حمل کے دوران آنے والے خون کو ماہواری کا خون سمجھ کر روزہ توڑنا


سوال

ایک عورت رمضان المبارک کے روزے سے تھی۔ روزے کی حالت میں اسے کچھ ایسا خون نظر آیا جسے اس نے ماہواری سمجھا، چناں چہ اس نے روزہ توڑ دیا۔ بعد میں کچھ گھنٹوں تک خون بند رہا، پھر تھوڑی دیر کے لیے دوبارہ خون آیا اور پھر بند ہوگیا۔ بعد میں ٹیسٹ کروانے پر معلوم ہوا کہ وہ حاملہ تھی۔ کیا اس صورت میں اس دن کے روزے کی صرف قضا لازم ہوگی یا کفارہ بھی لازم ہوگا؟ اگر یہ خون حمل کے دوران آیا ہو تو کیا اسے حیض شمار کیا جائے گا یا استحاضہ؟ اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

 حمل کے دوران ولادت سے پہلے تک نکلنے والا خون حیض نہیں بلکہ استحاضہ  ہے، اور استحاضہ کے خون سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر یہ خون حمل کے دوران آیا تھا، تو اس کی وجہ سے مذکورہ خاتون کے لیے روزہ توڑنا جائز نہیں تھا، تاہم جب اس نے اسے ماہواری کا خون سمجھ کر روزہ توڑدیا تو اس کی وجہ سے خاتون پر صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

" (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة.)

(قوله استحاضة) خبر قوله والناقص وما عطف عليه."

( كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:285، ط: دار الفكر )

وفیه أیضاً:

"وإنما لم تجب الكفارة بإفطاره عمدا بعد أكله أو شربه أو جماعه ناسيا؛ لأنه ظن في موضع الاشتباه بالنظير، وهو الأكل عمدا؛ لأن الأكل مضاد للصوم ساهيا أو عامدا فأورث شبهة".

(کتاب الصوم، ‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:401، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101263

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں