بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ہم جنس پرستی کرنے والے سے قطع تعلقی کا حکم


سوال

ایک لڑکا 17 سال کی عمر میں جرمنی گیا،  وہاں مستقل رہنے اور کام کرنے کی غرض سے وہاں اس نے شہریت اختیار کرنے کے لیے ایک جرمن مرد سے شادی کر لی، کیونکہ جرمن قانون میں مرد مرد سے شادی کر سکتا ہے، اس طرح اس کو شہریت پاسپورٹ اور جاب مل گئی، کچھ عرصے بعد اس نے اپنی شادی شدہ بہنوں کو جرمنی گھومنے پھرانے بلایا، بہنوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، مگر شرم کی وجہ سے اپنے شوہروں کو نہیں بتایا، کچھ عرصے بعد اس کی ایک بہن اور بہنوئی خاموشی سے جرمنی گئے اور اس کے ہاں ٹھہر کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور یہاں آ  کر باقی تین بہنوئیوں  کو بتایا، اب دو بہنیں اس بھائی سے ملتی ہیں اور دو بہنیں نہیں ملتیں۔

اب شرعی طور پر اس بھائی سے باقی دو بہنیں ملیں یا نہ ملیں؟

جواب

ہم جنس پرستی زنا سے زیادہ بدتر جرم ہے سابقہ امتوں میں سے حضرت لوط علی نبینا وعلیہ السلام کی امت پر اسی قبیح عمل کو اختیار کرنے کی وجہ سے عذاب آیا تھا ان کی بستی کو اوپر اٹھا کر زمین پر الٹ دیا گیا تھا اور پھر پتھروں کی بارش برسائی گئی تھی جس سے پوری قو م ہلاک ہوگئی تھی، لہذا اس جرم کی شدت زنا سے زیادہ ہے اور  اس کی سزا بھی زنا سے زیادہ سخت ہے، مثلا فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ اس عمل میں مبتلا شخص کو قاضی سخت سے سخت سزا دے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے یہاں تک منقول ہے کہ اس شخص کو پہاڑ سے نیچے گرا کر اس پر پتھر برسائے جائیں؛ اس لئے کہ اللہ تعالی نے اس عمل میں مبتلا قوم کو یہی سزا دی ہے  یا اور جو سخت سے سخت سزا دینا چاہے دےسکتاہے، نیز اس عمل کی اخروی سزا بھی بہت زیادہ ہے،  کل قیامت کے دن جب ہر شخص اللہ تعالی کے رحم وکرم کابہت زیادہ محتاج ہوگا اس عمل کے کرنےوالااللہ تعالی کی نگاہِ شفقت اور رحمت سے محروم رہےگا۔

ذیل میں قرآن اور حدیث کی کچھ نصوص نقل کی جاتی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فعل اور گناہ شرعا کتنا قبیح، ناپسندیدہ اور برا ہے، ملاحظہ فرمائیں:

قرآن کریم میں ہے:

‌وَلُوطاً ‌إِذْ ‌قالَ ‌لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِها مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعالَمِينَ[الآية: 80]

ترجمہ: ”اور (ہم نے) لوط (علیہ السلام) کو (بھیجا) جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا ۔“ (بیان القرآن)

تفسیر قرطبی میں ہے:

"(أتأتون الفاحشة) يعني ‌إتيان ‌الذكور. ذكرها الله باسم الفاحشة ليبين أنها زنى."

(‌‌تفسير سورة الأعراف‌‌، الآية: 80، ج:7، ص:243، ط: دار الكتب المصرية)

المعجم الأوسط للطبرانی میں ہے:

1086 - "حدثنا أحمد قال: حدثنا أبو جعفر النفيلي قال: نا عباد بن كثير الرملي قال: نا عروة بن رويم، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا استحلت أمتي ستا فعليهم الدمار: إذا ظهر فيهم التلاعن، وشربوا الخمور، ولبسوا الحرير، واتخذوا القيان، ‌واكتفى ‌الرجال ‌بالرجال، والنساء بالنساء".

ترجمہ:” حضرت انس رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب میری امت چھ  چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی تو ان پر تباہی نازل ہو گی جب ان میں باہمی لعن طعن عام ہو جائے، مرد ریشمی لباس پہننے لگیں، گانے بجانے اور ناچنے والی عورتیں رکھنے لگیں، شرابیں پینے لگیں اور مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے جنسی تسکین پر کفایت کرنے لگیں۔ “

(باب الألف، ‌‌من اسمه أحمد، ج:2، ص:17، ط: دار الحرمين)

شعب الإیمان للبیہقی میں ہے:

5467 - "أخبرنا أبو الحسن علي بن إبراهيم الهاشمي ببغداد ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا محمد بن غالب بن حرب ثنا عمرو بن الحصين النميري ثنا الفضل بن عميرة ثنا ثابت عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إذا استعملت أمتي خمسا فعليهم الدمار: إذا ظهر فيهم التلاعن ولبس الحرير واتخذوا [القينات] وشربوا الخمور ‌واكتفى ‌الرجال ‌بالرجال والنساء بالنساء."

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب میری امت پانچ چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی تو ان پر تباہی نازل ہو گی جب ان میں باہمی لعن طعن عام ہو جائے، مرد ریشمی لباس پہننے لگیں، گانے بجانے اور ناچنے والی عورتیں رکھنے لگیں، شرابیں پینے لگیں اور مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے جنسی تسکین پر کفایت کرنے لگیں۔ “

(السابع والثلاثون من شعب الإيمان وهو باب في تحريم الفروج وما يجب من التعفف عنها، ج:4، ص:377، ط: دار الكتب العلمية)

سنن الترمذی میں ہے:

1456 - "حدثنا محمد بن عمرو السواق قال: حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من وجدتموه يعمل عمل ‌قوم ‌لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به."

ترجمہ: ”حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم کسی کو لوط علیہ السلام کی قوم کا عمل کرتے ہوئے دیکھو تو فاعل و مفعول کو قتل کردو۔“

(أبواب الحدود، ‌‌باب ما جاء في حد اللوطي، ج:4، ص:57، ط: مصطفى البابي الحلبي)

وفیه أیضاً:

1165 - "حدثنا أبو سعيد الأشج، قال: حدثنا أبو خالد الأحمر، عن الضحاك بن عثمان، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينظر الله إلى رجل ‌أتى ‌رجلا أو امرأة في الدبر."

ترجمہ: ”حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص پر نظر نہیں فرماتا جو کسی مرد یا عورت کے پاخانہ کے راستہ سے آئے۔“

(أبواب الرضاع، ‌‌باب ما جاء في كراهية إتيان النساء في أدبارهن، ج:3، ص:461، ط: مصطفى البابي الحلبي)

بہرحال! اگر کوئی شخص مذکورہ   گناہ   میں مبتلا ہو اور تنبیہ کے باوجود  اس سے باز نہ آتا ہو  تو اُس کی اصلاح کی نیت سے اُس سے قطع تعلقی کر لینا چاہیے؛ تا کہ وہ اپنی غلط عادات سے باز آ جائے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت کعب بن مالک اور اُن کے دو ساتھیوں (رضی اللہ عنہم)  کے غزوہ تبوک میں  پیچھے رہ جانے کی وجہ سے متارکت اور قطع تعلقی  کا حکم فرمایا تھا۔

اب جو بہنیں اس طرح کا گناہ کرنے والے بھائی سے نہیں ملتیں ان کا عمل درست ہے اور جو بہنیں اس سے تعلقات قائم رکھی ہوئی ہیں ان کو بھی چاہیے کہ اس طرح کے گناہ کرنے والے بھائی سے قطع  تعلقی کریں؛ تاکہ اس کو احساس ہو کہ وہ گناہ کے کام میں مبتلا ہے اور  اس وقت تک قطع تعلقی باقی رکھیں جب تو وہ اپنے اس فعل سے توبہ نہ کر لے۔

قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

﴿وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِہٖ ۭ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ﴾ [الأنعام:۶۸]

ترجمہ: ”اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات میں عیب جوئی کررہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجا؛ یہاں تک کہ وہ کوئی اور بات میں لگ جائیں اور اگر تجھ کو شیطان بھلادے، تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔“                               (بیان القرآن، آیت نمبر:۶۸)

عمدۃ القاری میں ہے:

"باب ما يجوز من الهجران لمن عصى.

أي هذا باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى وقال المهلب: غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأن ذلك متنوع على قدر الإجرام فمن كان جرمه كثيرًا فينبغي هجرانه واجتنابه وترك مكالمته، كما جاء في كعب بن مالك وصاحبيه وما كان من المغاضبة بين الأهل والإخوان، فالهجران الجائز فيها ترك التحية والتسمية وبسط الوجه، كما فعلت عائشة في مغاضبتها مع رسول الله."

(كتاب البر والصلة ، باب ما يجوز  من الهجران لمن عصى ، ج : 22 ، ص : 225 ، ط : دارالكتب العلمية)

حاشیۃ السندی میں ہے:

"وكذا إذا كان الباعث أمرا دينيا فليهجره حتى ينزع من فعله وعقده ذلك فقد أذن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم في هجران الثلاثة الذين تخلفوا خمسين ليلةً حتى صحت توبتهم عند الله قالوا وإذا خاف من مكالمة أحد ومواصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل عليه مضرة في دنياه يجوز له مجانبته والحذر منه فرب هجر جميل خير من مخالطة مؤذيه."

(حاشیة السندی علی ابن ماجه، 1/38)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101591

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں