
1۔ ہالووین (Halloween) تہوار منانے کا کیا حکم ہے؟ نیز اس زمانے میں لوگ اسکو مذہبی تہوار کے طور پر مناتے ہیں یا معاشرتی؟
2۔اگر غیر مسلم مذہبی تہواروقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی تہواربن جائے تو کیا اس کو منانے کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مذہبی تہوار وقت کے ساتھ ساتھ غیر مذہبی معاشرتی تہوار بن سکتا ہے؟ اگر اس مذہب والے اسکو صرف بطور معاشرتی تہوار منائیں؟
واضح رہے کہ اسلام میں کسی بھی دوسرے مذہب کا تہوار منانا جائز نہیں ہے، بلکہ اگر ان کے دین کی تعظیم مقصد ہو تو اندیشہ کفر ہے، اور اگر تعظیم مقصد نہ ہو دینا جائز نہیں، اور یہ بات بھی یاد رہے کہ ہر مذہب والے اپنے تہوار کو مذہبی تہوار سمجھ کر مناتے ہیں، اسے معاشرتی تہوار نہیں سمجھتے، اور کوئی مذہبی تہوار مذہبی ہونے کے ساتھ معاشرتی اس وقت بنتا ہے جب پورا معاشرہ اسی مذہب کا پیرو کا ر ہو ، ورنہ وہ تہوار صرف مذہبی ہی ہوتا ہے، لہذاصورت مسئولہ میں ہالووین تہوار ( جو کہ ہر سال 31 اکتوبر کو اس عقیدے کی یاد میں منایا جاتا ہے کہ اس رات مردوں کی روحیں دنیا میں واپس آتی ہیں، یہ مغربی ممالک زیادہ تر عیسائی ممالک کے لوگ مناتے ہیں، لیکن آج کل اسے مختلف مذاہب کے لوگ بھی تفریح کے طور پر مناتے ہیں ) منانا جائز نہیں ہے، یہ تہوار منا کر گویا ان کے باطل اور شرکیہ عقائد و نظریات کی تائید ہے،اور یہ تہوار منانے سے اگر ان کے دین کی تعظیم مقصد ہو تو اندیشہ کفر ہے، نیزاس تہوار کا دل میں احترام کرنا بھی گناہ کا سبب ہے۔
المفاتيح في شرح المصابيح میں ہے:
"عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من تشبه بقوم فهو منهم".
قوله: "من تشبه بقوم فهو منهم"؛ يعني: من شبه نفسه بالكفار في اللباس وغيره من المحرمات، فإن اعتقد تحليله فهو كافر، وإن اعتقد تحريمه فقد أثم، وكذلك من شبه نفسه بالفساق، ومن شبه نفسه بالنساء في اللباس وغيره فقد أثم."
(كتاب اللباس: 5/ 18، ط: دار النوادر)
الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
"وفي الانتصار: من تزيا بزي الكفار من لبس غيار أو شد زنار أو تعليق صليب بصدره حَرُم ولم يكفر، وميل كلام بعضهم إلى الكفر، وفي الفصول: إن شهد عليه أنه كان يعظم الصليب مثل أن يقبله أو يتقرب بقربانات أهل الكفر ويكثر من دخول بيعهم وبيوت عباداتهم احتمل أنه ردة، وهو الأرجح؛ لأن المستهزئ بالكفر يكفر، ولأن الظاهر أنه يفعل ذلك عن اعتقاد."
(ص:218، ط:دار التقوى سوریا)
فتاوی تاتارخانیۃ میں ہے:
"اجتمع المجوس یوم النیروز فقال مسلم: "خوب رسمے نہادہ اند"، أو قال: "نیک آئیں نہادہ اند" یخاف علیه الکفر"۔
(احکام المرتدین، فصل فی الخروج الی النشیدۃ والذھاب الی ضیافۃ المجوس: 5/ 519، ط: ادارہ القران کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144404100500
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن