بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کاہاف آستین میں نمازپڑھنے کا حکم


سوال

 اگر عورت ہاف آستین یا ایسی آستین والی قمیص پہنے جو کہنی سے نیچے ہو لیکن کلائی تک نہ پہنچتی ہو، تو کیا اس کی نماز ادا ہو جائے گی؟ یا نماز کے لیے فل آستین والی قمیص پہننا ضروری ہے؟

جواب

نماز پڑھنے کے لیے عورت کا سارابدن،ہاتھ گٹوں تک اور پاؤں ٹخنے تک پوراسترہے ،کلائیوں کو کھولنا جائزنہیں،اورنہ  ہاف آستین والی قمیص میں نمازپڑھنا جائزہے،لہذا اگر کسی عورت کی کلائیاں کھلی ہوئی ہوں اگرچہ کہنی پوشیدہ ہو، ایسی عورت کی نماز جائز نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (خلا الوجه والكفين) ۔۔۔۔۔ (والقدمين)على المعتمد، وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح

(قوله على المرجوح) قال في المعراج عن المبسوط: وفي الذراع روايتان والأصح أنها عورة. اهـ. قال في البحر: وصحح بعضهم أنه عورة في الصلاة لا خارجها والمذهب ما في المتون لأنه ظاهر الرواية"

(کتاب الصلاۃ،باب الشروط الصلاۃ،مطلب في ستر العورة،ج:1ص:405-406،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"بدن الحرة عورة إلا وجهها وكفيها وقدميها."

(کتاب الصلاۃ،الباب الثالث في شروط الصلاة،ج:1،ص:58،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101790

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں