بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت جنابت میں قرآن کی تلاوت سننے اور سنتے سنتے سوجانے کا حکم


سوال

 مجھے قرآن سننے کا بہت شوق ہے،  خاص کر قاری یاسر الدوسری کی تلاوت کا اور اکثر اوقات چاہے میں رائد پر ہوں یا کہیں اکیلا بیٹھا ہوا ہوں یاسونے سے پہلے ضرور سنتا ہوں،  اور اکثر اوقات سنتے سنتے سوجاتا ہوں،  پھر جیسے ہی آنکھ  کھل جائے میں اسے بند کردیتا ہوں،پوچھنا یہ ہے کہ   اگر سنتے سنتے بندہ سوجائے اور آنکھ کھلتے ہی بند کیا جائے یا حالت جنابت میں رات کوسنے تواس میں گناہ ہیں یا نہیں ؟

جواب

قرآنِ مجید کی تلاوت سننا باعث اجروثواب ہے ، البتہ جب سائل پر غنودگی طاری ہونے لگے تو تلاوتِ قرآنِ مجید کو بند کرکے سوجائے ، تاکہ قرآنِ کریم  سے بے توجہی  نہ ہو ، تاہم  آنکھ کھلنے پر بند کردینے سےکوئی گناہ نہیں ہوگا۔مزید یہ کہ حالتِ جنابت میں قرآن مجید کی تلاوت سننا جائز ہے، خواہ کسی انسان سے سنے، یا کمپیوٹر، یا موبائل یا ریڈیو سے سنے۔ البتہ جنابت کی حالت میں جب تک غسل نہ کر لیا جائے، قرآن کریم کی تلاوت (خواہ قرآنِ مجید سے، یا موبائل سے، یاکمپیوٹر سے، یا زبانی) کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔

صحيح مسلم میں ہے:

"عن عائشة أنها قالت:  كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتكئ في حجري وأنا حائض فيقرأ القرآن."

(‌‌‌‌كتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها، رقم:301، ج:1، ص:169، ط:دار طوق النجاة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(ومنها) ‌حرمة ‌قراءة ‌القرآن لا تقرأ الحائض والنفساء والجنب شيئا من القرآن والآية."

(كتاب الطهارة، الباب السادس، الفصل الرابع، ج:1، ص:38، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يحرم به (تلاوة القرآن) ولو دون آية على المختار.

(قوله: تلاوة القرآن) أي ولو بعد المضمضة كما يأتي."

 (كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج:1، ص:172، ط:سعید)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ عثمانی رحمہ اللہ ”جدید آلات کے شرعی احکام“ میں تحریر فرماتے ہیں:

”یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآنِ کریم جب اس میں (ٹیپ ریکارڈ میں) پڑھنا جائز ہے تو اس کا سننا بھی جائز ہے، شرط یہ ہے کہ ایسی مجلسوں میں نہ سناجائے جہاں لوگ اپنے کاروبار یا دوسرے مشاغل میں لگے ہوں، یاسننے کی طرف متوجہ نہ ہوں،  ورنہ بجائے ثواب کے گناہ ہوگا ۔“

(آلاتِ  جدیدہ کے شرعی احکام، ٹیپ ریکارڈ پر تلاوت قرآن کا حکم، ص:207، ط:ادارۃ المعارف)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100507

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں