بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کرنے اوراس سے پیدا ہونے والے بچہ کا حکم


سوال

حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور اس سے اگر بچہ پیدا ہوتو اس کا کیاحکم ہے؟

جواب

حالتِ حیض میں جماع کرنا حرام و ناجائز ہے، اگر زوجین کی رضامندی سے اس گناہ کا راتکاب ہو تو دونوں گناہ گار ہوتے ہیں، میاں بیوی دونوں اللہ کی طرف صدق دل سے رجوع کریں اور توبہ اور خوب استغفارکریں، اور بہتر یہ ہے کہ اس کے بعد کچھ صدقہ کریں؛  استطاعت ہو تو ایک دینار (4.374  گرام سونے کا سکہ) یا آدھا دینار (یا اس کی قیمت) صدقہ کریں،باقی اگر حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کرنے کی صورت میں حمل ٹھر جائے اور اس سے بچہ کی ولادت ہو تو وہ بچہ  حلال کا اورثابت النسب ہے۔

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:

’’(سوال ۳۳۷) اگر کوئی شخص اپنی زوجہ سے حالتِ حیض میں جماع کرے تو اس پر کفارہ لازم آوے گا یا نہ؟
(جواب)در مختار میں ہے کہ حالتِ حیض میں اپنی زوجہ سے وطی کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس کو توبہ کرنا لازم ہے اور ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے، اور ایک دینار ساڑھے چار ماشے سونے کا ہوتا ہے ۔فقط۔‘‘

(کتاب الطہارت،  ج:1 ،ص:211 ،ط:دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے:

"ويندب تصدقه بدينار أو نصفه.

(قوله: ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعًا «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار» ثم قيل إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دما أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار»."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج: 1، ص: 298، ط: سعيد)

مجمع الانھر میں ہے:

"ولو وطئها غير مستحل عالما بالحرمة عامدا مختارا لا جاهلا ولا ناسيا ولا مكرها كبيرة فليس عليه إلا التوبة والاستغفار، ويستحب أن يتصدق بدينار أو نصفه."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص: 53 ،ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101531

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں