بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت حمل میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے


سوال

میرے شوہر نے مجھے ان الفاظ کے ساتھ ایک طلاق دی "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"  اس کے بعد رجوع نہیں کیا اور یہ کہہ دیا کہ تم پریگننٹ تھی جس کی وجہ سے طلاق نہیں ہوتی، یہاں تک کہ بچی کی ولادت ہوگئی، اس کے بعد ہم دونوں ساتھ رہتے رہے، آج میری بیٹی چار سال کی ہے، دوسری طلاق پچھلے سال دی جس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا وہ ملک سے باہر رہتے ہیں اس کے کچھ وقت بعد انہوں نے بات چیت شروع کردی، اس کے بعد کافی وقت گزر گیا انہوں نے مجھ سے رجوع نہیں کیا کہ میں دوبارہ سے رجوع کرتا ہوں یا واپس اپنے نکاح میں لیتا ہوں، اس بات کو سال ہونے والا ہے، پوچھنا یہ چاہتی ہوں کیا میں ان کے نکاح میں ہوں یا نہیں؟ 

جواب

حمل کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا سائلہ کے شوہر کا حمل کے دوران یہ کہنا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، اس کے بعد شوہر کو عدت یعنی بچے کی پیدائش تک رجوع کا حق حاصل تھاور جب شوہر نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا توعدت ختم ہوتے ہی  عدت میں رجوع نہ کرنے کی وجہ سے نکاح ٹوٹ گیا ہےاس کے بعد رجوع کرنا یا تجدید نکاح کے بغیر ساتھ رہنا جائز نہیں،نیز نکاح نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کا دوسری طلاق دینا لغو ہے، اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،   البتہ دونوں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نئے ایجاب و قبول کے ساتھ تجدید نکاح کرنا چاہیں تو دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، تجدید نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے دو طلاق کا حق حاصل ہوگا، نیز دونوں جو بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہے ہیں اس پر خوب توبہ واستغفار بھی کریں۔

البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:

"م: (وطلاق الحامل يجوز عقيب الجماع، لأنه لا يؤدي إلى اشتباه وجه العدة، وزمان الحبل زمان الرغبة في الوطء لكونه) ش: أي لكون الوطء م: (غير معلق) ش: أي غير محبل م: (أو يرغب فيها) ش: عطف على قوله في الوطء، والضمير يرجع إلى الحامل يعني أن زمان الحبل زمن الرغبة في الوطء، لأنه في حالة الحبل غير معلق، وهو زمان الرغبة في الحامل م: (لمكان ولده منها) ش: أي لأجل حصول ولده من الحامل م: (فلا تقل الرغبة بالجماع) ش: لأن الولد داع إلى رغبة الرجل في أمه، ولما كان زمان الرغبة لا يقع طلاقها عقيب الجماع."

(کتاب الطلاق، طلاق ‌الحامل عقيب الجماع، ج:5، ص:291، ط:دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"  أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا."

(کتاب الطلاق، الرجعة، فصل فی حکم الطلاق، ج:3، ص:180، ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في أمة أو عن فسخ بتفريق لإباء أحدهما عن الإسلام أو بارتداد أحدهما."

(کتاب الطلاق، ج:3، ص:230، ط:سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100881

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں