بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1448ھ 22 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت جنابت میں طواف زیارت کرنے کا حکم


سوال

اگر کسی عورت کو حیض ہونے کا شک ہو اور یقین نہ ہو، اور وہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا"کے اصول پر یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ پاک ہے، طوافِ زیارت کر لے، پھر جب طوافِ زیارت مکمل کر کے واپس آ کر چیک کرے تو یقین ہو جائے کہ حیض شروع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے غالب گمان یہ ہو کہ حیض پہلے سے ہی شروع ہو چکا تھا، تو کیا اس کا طوافِ زیارت ہو جائے گا اور اس پر کوئی دم لازم آئے گا یا نہیں؟ اور پھر ایامِ نحر کے بعد پاک ہو کر اس نے طوافِ زیارت دوبارہ بھی کر لیا۔ اب ایسی صورت میں کیا طوافِ زیارت کا فرض ادا ہو گیا؟ اور کیا کوئی دم لازم آئے گا یا ساقط ہو جائے گا؟ اگر لازم آئے گا تو بدَنہ (اونٹ یا گائے) دینا ہوگا یا بکری کافی ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت نے حیض شروع ہونے نہ ہونے کے  شک کی بناء پر یہ سمجھ لیا کہ وہ پاک ہے اور پھر  طوافِ زیارت کر لیا،  لیکن طوافِ زیارت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ حیض کی حالت میں تھی، تو ناپاکی کی حالت میں کیا طواف زیارت اگرچہ ادا ہوگیا تھا، اور وہ احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوگئی تھی،لیکن حیض کی حالت میں  طواف ہونے کی وجہ سے اس پر  بدنہ(اونٹ) لازم ہو گیا تھا، مگر ایامِ نحر کے بعد جب اس نے طواف زیارت کا اعادہ کر لیا، تو بدنہ(اونٹ) بھی  ساقط ہو گیا ۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے :

"ولو طاف طواف الزيارة محدثا فعليه شاة، وإن كان جنبا فعليه بدنة وكذا لو طاف أكثره جنبا أو محدثا والأفضل أن يعيد الطواف ما دام بمكة ولا ذبح عليه والأصح أن يعيد في الحدث ندبا وفي الجنابة وجوباثم إن أعاده وقد طاف محدثا لا دم عليه، وإن أعاده بعد أيام النحر، وإن أعاده وقد طاف جنبا في أيام النحر لا شيء عليه، وإن أعاده بعد أيام النحر... وتسقط عنه البدنة كذا في السراج الوهاج."

(كتاب الحج، الباب الثامن في الجنايات، ج :1، ص :245، ط :دارالفکر)

ردالمحتار علی الدر المختار میں ہے :

"(وحيضها لا يمنع) نسكا (إلا الطواف) ولا شيء عليها بتأخيره إذا لم تطهر إلا بعد أيام النحر، فلو طهرت فيها بقدر أكثر الطواف لزمها الدم بتأخيره لباب."

(كتاب الحج، مطلب في طواف الزيارة، ج :2، ص :528، ط :سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100858

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں