
میں پہلی مرتبہ حج /عمرہ پر جا رہی ہوں اور اس سے پہلے کبھی عمرہ نہیں کیا، کیا عمرہ کے دوران میں اپنے شوہر کا ہاتھ پکڑ سکتی ہوں یا نہیں؟ نیز کیا طواف کے دوران بھی ہاتھ پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ گم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، خاص طور پر مطاف میں جہاں اکثر لوگ بچھڑ جاتے ہیں، کیا ابتدا میں یا طواف کے دوران ہاتھ پکڑ سکتی ہوں یا نہیں؟
احرام کی حالت میں (خواہ وہ شروع میں ہو یا طواف میں ہو)میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ بغیر کسی حائل کے پکڑنادرست ہے ، اس سے عمرہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا، البتہ احرام کی حالت میں شہوت سے ایک دوسرے کو چھونا منع ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
فيجب على المحرم أن يجتنب الدواعي من التقبيل، واللمس بشهوة، والمباشرة، والجماع فيما دون الفرج لقوله عز وجل {فمن فرض فيهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج} [البقرة: 197]
کتاب الحج،فصل من محظورات الإحرام ما يرجع إلى توابع الجماع،ج:2،ص:195،ط:دارالکتب العلمیۃ)
فتاوی شامی میں ہے:
"(أو قبل) عطف على حلق (أو لمس بشهوة أنزل أو لا)
(قوله أو قبل إلخ) حاصله أن دواعي الجماع كالمعانقة والمباشرة الفاحشة والجماع فيما دون الفرج والتقبيل واللمس بشهوة موجبة للدم، أنزل أو لا قبل الوقوف أو بعده، ولا يفسد حجه شيء منها كما في اللباب،"
(کتاب الحج،باب الجنايات في الحج،ج:2،ص:554،ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101044
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن