بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں بیوی سے کس قدر استمتاع جائز ہے؟


سوال

شوہر اپنی بیوی کے اوپر حالتِ  حیض میں الٹا لیٹ سکتا ہے،  اس حال میں کہ وہ بھی اسی طرح الٹا لیٹی ہوئی ہو۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شوہر کے لیے بیوی سے اس کے  ماہواری کے ایام میں  ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصہ سے بغیر حائل کے نفع اٹھانا  شرعاً ممنوع قرار دیاگیا ہے، البتہ اس حصہ کے علاوہ باقی تمام بدن سے  فائدہ اٹھانے کی شرعاً اجازت ہے۔

لہذا اگر ناف سے گھٹنوں تک کا حصہ کپڑے سے ڈھکا ہوا ہو تو شوہر کو بیوی کے ساتھ لیٹنے کی اجازت ہے، اور ذکر کردہ صورت میں بھی لیٹنا درست ہے۔البتہ اگر اس صورت میں بھی جماع کی جانب راغب ہونے کا احتمال ہوتو اس طریقے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

یہ یاد رہے کہ حالتِ حیض میں بیوی سے جماع کرنابنصِ قرآنی قطعاً حرام و ناجائز ہے،  اگر زوجین باہمی  رضامندی سے اس گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں  تو دونوں گناہ گار ہوں گے، دونوں پر سچے دل سے  استغفار لازم ہوگا،  اگر اس حالت  میں جماع حلال سمجھتے ہوئے کیا تو آیتِ قرآنی کے انکار کی وجہ سے تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، البتہ اگر غلطی سے اس گناہ کا ارتکاب ہوگیا تو  توبہ و استغفار کے بعد  کچھ صدقہ کردے؛ تاکہ نیکی سے گناہ دھل جائے۔ نیز اگر حیض کے ابتدائی ایام میں ( جب کہ خون سرخ ہوتا ہے)  یہ گناہ سہواً سرزد ہوگیا  ہو تو ایک دینار (4.374 گرام سونے کا سکہ) یا  اس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر حیض کے آخری ایام میں ایسا ہوا ہو توآدھا دینار (یا اس کی قیمت) صدقہ کردے۔

''تنویر الابصار مع الدر المختار'' میں ہے:

''(و) يمنع... (و قربان ماتحت إزار) يعني مابين سرة و ركبة ولو بلاشهوة و حل ماعداه مطلقاً''. (باب الحيض ١/ ٢٩٢، ط:سعيد)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 298):

"(قوله: ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعاً «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار»، ثم قيل: إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل: بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه: «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دماً أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار»".

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144202200812

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں